دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

494

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے متعلق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی تا حیات نا اہلی ختم کرانے کے لیے ایک درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کے ذریعے دائر کی جائے گی۔ اس درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی جائے گی کہ کسی رکن اسمبلی کی تاحیات نا اہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں کیا جائے اور آئین کی دفعات 184 اور 99 کی تشریح کی جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفعہ 184 کی شق تین کے تحت عدالت عظمیٰ بطور ٹرائل کورٹ امور انجام نہیں دے سکتی، اس شق کے تحت عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہیں ملتا جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ درخواست میں شرعی عدالت کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ اپیل کا حق دین اسلام سے ثابت ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ ع دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا۔ دین کی بنیاد پر سیاست کو غلط قرار دینے والے آج اسی دین کا حوالہ دے کر عدالت عظمیٰ سے اپنے حق میں فیصلہ اور ریلیف کے طلب گار ہیں۔ حالانکہ تین بار وزارت عظمیٰ کے اہم ترین منصب پر فائز رہتے ہوئے نہ صرف یہ کہ میاں محمد نواز شریف صاحب کو کبھی دین کے نفاذ اور اس کی اطاعت کا خیال نہیں آیا بلکہ انہیں جہاں کہیں موقع ملا۔ انہوں نے ڈٹ کر اس کی مخالفت کی اور ہر ممکن حد تک اس کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ قرآن حکیم نے سود کے لین دین کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ سے جنگ قرار دیا ہے، میاں نواز شریف کی پہلی وزارت عظمیٰ کے دوران سابق رکن قومی اسمبلی سید اسعد گیلانی مرحوم اور بعض دیگر محبان دین کی درخواست پر عدالت عظمیٰ نے ملک کے معاشی اور بنکاری نظام سے سود کے خاتمہ کا حکم جاری کیا تو اس پر نیک نیتی سے عمل درآمد کے ذریعے اللہ اور رسولؐ سے جنگ سے نجات اور دنیا و آخرت کی فلاح کے حصول کی بجائے میاں نواز شریف نے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناعی حاصل کر لیا جس کے بعد سے آج تک یہ معاملہ گزشتہ کم و بیش تیس برس سے عدالتوں میں معلق چلا آ رہا ہے، میاں نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے تنظیم اسلامی کے امیر ڈاکٹر اسرار احمد سے اپنے بیٹوں نواز اور شہباز کے ہمراہ ملاقات کی تو ان کے اصرار پر وعدہ کیا گیا کہ آئندہ حکومت میں آنے کے بعد شریف خاندان عدالت سے حکم امتناعی کی درخواست واپس لے کر سود سے پاک نظام رائج کرے گا، اسی طرح کے بہت سے وعدے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم سے بھی کئے گئے۔ مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔ پھر مغربی آقائوں کے حکم پر دینی حلقوں کی شدید مخالفت کے باوجود ہفتہ وار جمعہ کی چھٹی ختم کر کے اتوار کی تعطیل کا حکم جناب نواز شریف ہی نے جاری کیا تھا اور دعویٰ یہ تھا کہ اس اقدام سے ملکی معیشت بہت بہتر ہو جائے گی مگر عملاً اس اقدام کے بعد بھی پاکستان کی معیشت جس زبوں حالی سے دو چار ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ جناب نواز شریف کے دور اقتدار میں دیگر اسلامی احکام اور شعائر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، نصاب سے اسلامی احکام کے اخراج سے لے کر فحاشی و عریانی، بے حیائی و بے راہروی اور شراب و کباب کو تحفظ و فروغ بھی انہی کے دور اقتدار کے کارنامے ہیں یوں آئین کے اس واضح فیصلہ کے باوجود کہ یہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو گی اور یہاں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی، میاں نواز شریف اس آئین کو قدم قدم پر پامال کرتے رہے مگر آج اپنی ضرورت کے تحت اسی آئین کی دفعات اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں شرعی عدالت کے فیصلوں کا سہارا تلاش کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جیسے ادارے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے کہ کس قدر اہم منصب پر منتخب ہونے کے بعد وہ کس طرح شخصی اور جماعتی مفادات کی خاطر اس منصب کے تقدس کو مجروح کر رہے ہیں وہ بلاشبہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے حامی وکلاء کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں مگر منصب سنبھالنے کے بعد آئین و قانون اور اخلاقیات کا تقاضا یہی ہے کہ وہ خود کو ہر طرح کی ذاتی اور جماعتی وابستگیوں سے بالاتر رکھتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد اور آئین و قانون کی بالادستی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے زیر نظر درخواست ابھی عدالت عظمیٰ میں دائر بھی نہیں ہوئی مگر صحافتی و عدالتی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں عام ہیں کہ جناب احسن بھون کو اس خدمت کے عوض شریف خاندان نے نواز لیگ کے ٹکٹ پر سینٹ کی نشست پر منتخب کرانے کا وعدہ کیا ہے… درخواست دائر کرنے سے قبل اس خبر یا افواہ کی وضاحت کی سپریم کورٹ بار کے صدر جناب احسن بھون کے ذمہ ہے…!!!
جہاں تک شریف خاندان کو انصاف دلانے کا تعلق ہے تو یہ یقینا اس کا حق ہے جو اسے ملنا چاہئے مگر یہ صرف اس خاندان ہی کا نہیں ملک کے ہر شہری کا حق ہے اور ملک کا عام آدمی جس طرح اس حق سے طویل عرصہ سے محروم چلا آ رہا ہے وہ کسی صاحب بصیرت سے پوشیدہ نہیں کتنا اچھا ہوتا کہ جناب احسن بھون سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے منصب کو عام آدمی کو انصاف دلانے کے لیے استعمال میں لاتے کس کو معلوم نہیں کہ وطن عزیز میں اشرافیہ اور عوام کے لیے الگ الگ قانون و ضابطے رائج ہیں منگل کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ 25 دسمبر 2012ء کو معمولی جھگڑے کے دوران شاہ زیب نامی نوجوان کو فائرنگ کر کے قتل کر دینے والا سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی کس طرح جیل کی بجائے ایک نجی ہسپتال میں موج میلا کر رہا تھا کیونکہ وہ سندھ کے ایک بہت با اثر خاندان سے تعلق رکھتا ہے، یہ صرف ایک شاہ رخ جتوئی کا معاملہ نہیں، یہاں ہر سرمایا اور اثر و رسوخ رکھنے والا شخص قانون سے اسی طرح کھلواڑ میں ملوث ہے خود شریف خاندان کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں، جنرل پرویز مشرف کے دور میں بیرون ملک سے دبائو کے سبب سزا یافتہ ہونے کے باوجود میاں نواز شریف راتوں رات جیل سے نکل کر تمام اہل خانہ سمیت جدہ کے ایک محل میں جا بسے، اب پھر عدالت سے سزا پانے کے بعد جیل سے نکال کر لندن پہنچا دیئے گئے تاکہ ایک ایسی بیماری کا علاج کرا سکیں جس کا سراغ آج تک نہیں لگایا جا سکا، پھر حسب وعدہ وطن واپس نہ آنے کے باوجود ان کی ضمانت دینے والے ان کے بھائی شہباز شریف آج تک قانون کی ہر طرح کی گرفت سے محفوظ ہیں۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز شریف اپنے بیمار والد کی عیادت کے جواز پر جیل سے ضمانت پر رہا ہوئیں اور اب کیفیت یہ ہے کہ والد لندن میں چین کی بانسری بجا رہے ہیں جب کہ ان کی عیادت کے لیے رہا کی گئی بیٹی پاکستان میں سیاست چمکانے میں مصروف ہیں۔ کیا اس طرح کی بیماری اور بیمار کی عیادت کے جواز پر جیل سے کسی سزا یافتہ مجرم کی رہائی کی کوئی دوسری مثال پاکستان کی تاریخ میں تلاش کی جا سکتی ہے؟ کیا قانون اور انصاف کا شریف خاندان سے زیادہ لاڈلہ کوئی دوسرا خاندان ملک میں موجود ہے؟ سپریم کورٹ بار بھی اب اسی خاندان کی خدمت پر کمر بستہ ہے… آخر کیوں ؟