افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

192

فقہ اور فرقہ بندی
فقہ میں اپنی تحقیق یا کسی عالم کی تحقیق کی پیروی کرتے ہوئے کوئی ایسا طرز عمل اختیار کرنا جس کے لیے شریعت میں گنجائش موجود ہو فرقہ بندی نہیں ہے اور نہ اس سے کوئی قباحت واقع ہوسکتی ہے۔ اس طریقے سے مختلف لوگوں کی تحقیقات اور ان کے طرزعمل میں جو اختلاف واقع ہوتا ہے وہ مذموم تفریق و اختلاف نہیں ہے جس کی برائی قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے۔ ایسے اختلافات خود صحابہ کرام اور تابعین میں رہ چکے ہیں۔ دراصل فرقہ بندی جس چیز کا نام ہے وہ یہ ہے کہ فروغ کے اختلافات کو اہمیت دے کر اصولی اختلاف بنادیا جائے اور اس میں اتنا غلو کیا جائے کہ اسی پر الگ گروہ بنیں اور ہر گروہ اپنے مسلک کو بمنزلہ دین قرار دے کر دوسرے گروہوں کی تکفیر و تذلیل کرنے لگیں، اپنی نمازیں اور مسجدیں الگ کرے، شادی بیاہ اور معاشرتی تعلقات میں بھی علیحدگی اختیار کرے اور دوسرے گروہوں کے ساتھ اس کے سارے جھگڑے انہی فروعی مسائل پر ہوں، حتیٰ کہ اصل دین کے کام میں بھی دوسرے گروہوں کے ساتھ اس کا تعاون ناممکن ہوجائے۔ اس قسم کی فرقہ بندی اگر پیدا نہ ہو اور فروع کو صرف فروع کی حیثیت ہی میں رہنے دیا جائے تو مسائل فقیہ میں مختلف مسلکوں کے لوگ اپنے اپنے طریقے پر عمل کرتے ہوئے بھی ایک ساتھ اسلامی نظام جماعت میں منسلک رہ سکتے ہیں۔
(ترجمان القرآن، نومبر 44ء)
٭…٭…٭
اہل کتاب سے نکاح کا جواز
اہل کتاب کی عورتوں سے مسلمان کا نکاح جائز اور مسلمان عورتوں سے اہل کتاب کا نکاح ناجائز ہونے کی بنیاد کسی احساس برتری پر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نفسیاتی حقیقت پر مبنی ہے۔ مرد بالعموم متاثر کم ہوتا ہے اور اثر زیادہ ڈالتا ہے۔ عورت بالعموم متاثر زیادہ ہوتی ہے اور اثر کم ڈالتی ہے۔ ایک غیر مسلمہ اگر کسی مسلمان کے نکاح میں آئے تو اس کا امکان کم ہوتا ہے کہ وہ اس مسلمان کو غیر مسلم بنا لے گی اور اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے گی۔ لیکن ایک مسلمان عورت اگر کسی غیر مسلم کے نکاح میں چلی جائے تو اس کے غیر مسلمہ ہو جانے کا بہت زیادہ اندیشہ ہے اور اس بات کی توقع بہت کم ہے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنی اولاد کو مسلمان بنا سکے گی۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کا نکاح غیر مسلموں سے کریں۔ البتہ اگر اہل کتاب میں سے کوئی شخص خود اپنی بیٹی مسلمان کو دینے پر راضی ہو تو مسلمان اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن قرآن میں جہاں اس چیز کی اجازت دی گئی ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر غیر مسلم بیوی کی محبت میں مبتلا ہو کر تم نے ایمان کھودیا تو تمہارا سب کیا کرایا برباد ہوجائے گا اور آخرت میں تم خسارے میں رہو گے۔ نیز یہ اجازت ایسی ہے جس سے خاص ضرورتوں کے مواقع پر ہی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی پسندیدہ فعل نہیں ہے جسے قبول عام حاصل ہو، بلکہ بعض حالات میں تو اس سے منع کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کی سوسائٹی میں غیر مسلم عناصر کے داخل ہونے سے کسی نا مناسب اخلاقی اور اعتقادی حالت کا نشونما نہ ہو سکے۔
(ترجمان القرآن، نومبر 44ء)