مہنگائی سے نبٹنے کا حل

529

آج کل ہر طرف مہنگائی مہنگائی کا شور ہے۔ ہر کوئی مہنگائی کو کوس رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا سامان تو بہت اچھی قیمت میں فروخت ہو مگر جو مال ہم خریدیں وہ ہمیں بہت سستا ملے۔ میڈیا سے لے کر جھونپڑی تک مہنگائی پر بحث عام ہے مگر افسوس آج تک نہ ہی کسی ماہر معاشیات یا کسی اینکر نے اس کی وجہ یا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی عوام کی صحیح رہنمائی فرمائی ہے۔ رہی بات سیاست دانوں کی تو ان کے نزدیک اس کا حل صرف یہ ہے کہ اقتدار ان کے حوالے کر دیا جائے تو دودھ کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔ اور جب اقتدار مل جائے تو پھر یہ سب پچھلے لوگوں کا کیا دھرا ہے۔ مجھے چند یوم پہلے اپنے دور اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک انتہائی محترم سابق ناظم اور معروف ماہر معاشیات و اقتصادیات برادر قانت خلیل کی ایک تحریر مہنگائی کے حوالے سے موصول ہوئی، جس میں انہوں نے مہنگائی کی وجوہات اور اس سے نبٹنے کی کوشش کی ہے من و عن پیش خدمت ہے۔
’’آج کل میڈیا پر مہنگائی پر مسلسل بحث جاری ہے۔ میرے خیال میں اس اہم مسئلے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مہنگائی یا افراط زر بنیادی طور پر ان مصنوعات کی قیمتوں کی سطح میں اضافہ ہے جن پر ایک عام صارف اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے۔ مہنگائی یا قیمت میں اضافہ بیچنے والوں کے لیے اچھا اور صارفین کے لیے برا ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ اشیائے خورو نوش کی پیداوار کر کے فروخت کرتے ہیں اور شہری علاقوں میں رہنے والے لوگ اسے استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں وسائل کی شہری علاقوں سے دیہی علاقوں میں منتقلی ہوتی ہے جو کہ بری بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے دیہی علاقوں میں غربت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ ہم مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم دوسری طرف، افراط زر جو تقریباً 9فی صد ہے اور شرح نمو کے 5فی صد کے ہونے کی وجہ سے، ہماری قومی آمدنی مجموعی طور پر تقریباً 15فی صد بڑھے گی۔
افراط زر قرض لینے والے کے لیے اچھا ہے کیونکہ اس کو جو قرض واپس کرنا ہے اس کی قدر حقیقی معنوں میں کم ہو جاتی ہے اور دوسری طرف افراطِ زر قرض دینے والے کے لیے اس کے قرض کی حقیقی قیمت میں کمی کی وجہ سے برا ہوتا ہے۔ سب سے بڑی قرض دار حکومت خود ہے۔ اور اس کے قرض کی قدر مہنگائی کے ساتھ کم ہو جاتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے بہت سے ممالک کے قرضوں کی بلند سطح کے گمبھیر مسئلے کو افراط زر کی بلند شرح نے حل کیا تھا۔ اسی طرح مسلسل بجٹ خسارے کے باوجود، مہنگائی کی وجہ سے جی ڈی پی کے تناسب سے حکومت پاکستان کے قرضوں میں بہت زیارہ اضافہ نہیں ہوا۔
سپلائی کے مسائل اور اشیاء کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ، افراط زر کی ایک اہم وجہ حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق ہے جسے خسارہ کی فنانسنگ کہا جاتا ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیکس وصولیوں کی رقم وہ ہے، جو حکومت کاروباری اداروں اور لوگوں سے وصول کرتی ہے۔ دراصل، یہ وہ رقم ہے جو حکومت خرچ کرتی ہے کیونکہ اس کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق بھی مہنگائی کی صورت میں پوشیدہ طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ حکومت کے آمدنی سے زیادہ اخراجات کے نتیجے میں، روپے کی پرنٹنگ اور ادھار کے ذریعے رقم حاصل کرنی پڑتی ہے، اس طرح پیداوار کی اسی سطح پر زیادہ رقم دستیاب ہوتی ہے، اور اس کے نتیجے میں پیداوار کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کا خسارہ تقریباً 3 سے 4 ہزار ارب روپے یا جی ڈی پی کا 6-7 فی صد ہے اور اس لیے آنے والے برسوں میں مہنگائی اس تناسب سے زیادہ ہوتی رہے گی، جب تک کہ حکومت اپنے خسارے کو پورا کرنے لیے اپنے امیر لوگوں پر ٹیکس لگانے یا اخراجات کو کم کرنے کے قابل نہیں ہو گی، خاص طور پر سود کی ادائیگی جو اس کے براہ راست قرض دہندگان یا بانڈ ہولڈرز، بینکوں اور ان کے اکاؤنٹ ہولڈرزکو زیادہ شرح سود کی وجہ سے ہو رہی ہے، یہ لوگ کاروبار کی جگہ زیادہ تر حکومتی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ایک اور بڑا سرکاری خرچ ترقیاتی منصوبوں پر ہے۔ مہنگائی اور روزگار کا براہ راست تعلق ہے کیونکہ جب ترقی اور روزگار کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے تو مزدور اپنی اجرت میں اضافہ کرتے ہیں، اور اجرت میں اضافے کو افراط زر کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے اور دوسری طرف مہنگائی میں اضافہ کے نتیجے میں مزدور اپنی اجرت میں اضافہ کرتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، جب یورپ روزگار کی انتہائی بلند سطح کے ساتھ غیر معمولی ترقی کر رہا تھا، اگلے 30 سال کے دوران جسے وہ اپنے گولڈن تھرٹی سال کہتے ہیں ان کی افراط زر کی شرح 10 فی صد سے زیادہ تھی۔ میری رائے میں، روزگار اور ترقی، مہنگائی سے بچنے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے، حالانکہ لبرل معاشی ماہرین مہنگائی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور مہنگائی سے بچنے کے لیے بے روزگاری کی ایک خاص سطح کو قبول کرتے ہیں۔ مہنگائی سیاسی طور پر زیادہ بڑا مسئلہ بن جاتا ہے کیونکہ یہ بے روزگاری کی نسبت زیادہ لوگوں کو متاثر کرتی ہے، حالانکہ اس کا اثر بے روزگاری سے کہیں کم ہے۔
اسلام نے مہنگائی اور غربت سے نمٹنے کا بہترین حل دیا ہے یعنی دولت پر 2.5فی صد ٹیکس اور عشر کی شکل میں پیداوار پر 5فی صد /10فی صد ٹیکس۔ زکوٰۃ اور عشر کی رقم، جو غریب لوگوں کو ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختص کی جائے گی، یہ رقم اثاثوں اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ بڑھے گی، اور اس مسئلے کو بہترین طریقے سے حل کرنے کے لیے ایک خودکار نظام کے طور پر کام کرے گی‘‘۔