میرپورخاص ،ضلعی انتظامیہ کی نااہلی ،عوام مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور

101

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) ضلع بھر میں محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ضلع بھر میں عوام مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ، حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کردہ ایک لاکھ گندم کی بوریاں6فلور ملوں اور سیکڑوں آٹا چکیوں کو تقسیم کرنے کے باوجود سرکاری نرخوں پر آٹے کی فروخت شروع نہیں ہو سکی ، سرکاری ریٹ 55 روپے کلو کے بجائے 73سے 75 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق میرپورخاص شہر سمیت ضلع بھر کے چھوٹے بڑے شہروں بااثر گندم مافیا کی جانب سے آٹے کا مصنوعی بحران پید اکر دیا گیا ہے جس کے باعث آٹا سرکاری نرخوں پر فروخت ہونے کے بجائے آٹا مافیا کے من مانے نرخوں پر فروخت ہو رہا ہے ضلع میں محکمہ خوراک اور متعلقہ انتظامیہ کی نااہلی اور چشم پوشی کے باعث عوام مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں محکمہ خوراک کے ذرائع کے مطابق حکومت سندھ نے عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کے لیے ضلع میں فی فلور مل کو ماہانہ بارہ ہزار بوریاں سو کلو والی جبکہ آٹا چکیوں کو سو کلو والی گندم کی بوریاں فی اسٹون کے حساب سے 34 بوریاں دی جا رہی ہیں اور ماہانہ فلور ملوں اور آٹا چکیوں کو ایک لاکھ کے قریب بوریاں تقسیم کی جاتی ہیں تاکہ عوام کو سرکاری نرخوں آٹافی کلو 55روپے دستیاب ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں 6 فلور ملز اور 660 سے زائد آٹا چکیوں کے اسٹون موجود ہیں جنہیں سرکاری نرخوں 4875روپے فی سو کلو گرام گندم فراہم کی جا رہی ہیں لیکن بااثر فلور مل اور آٹا چکی مالکان محکمہ خوراک کے اہلکاروں سے ملی بھگت کر کے گندم ٹرکوں میں بھرواکر کراچی میں 6ہزار روہے فی بوری فروخت کر رہے ہیں جس کے باعث میرپورخاص ضلع بھر میں مافیا کی جانب سے آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کر کے اپنے من پسند نرخوں پر آٹا فروخت کر رہے ہیں ضلع بھر میں ایک لاکھ سے زائد گندم کی بوریاں فراہم کر نے کے باوجود آٹے کے مصنوعی بحران اور قیمتوں میں اضافہ پر حکومت کی جانب سے کوئی نوٹس نہ لینے پر عوام میں مایوسی پھیلی ہو ئی ہے عوام نے مطالبہ کی ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے سستے آٹے کی فراہمی کے لیے اسٹال لگائے جائیں ، گندم کی ضلع سے باہر منتقلی پر سختی سے پابندی لگائی جائے اور آٹے کا بحران پیدا کرنے والے مافیا کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس حوالے سے ضلعی فوڈ کنٹرولر حسن علی مگسی نے بتایا کہ حکومت سندھ کے شیڈول کے مطابق فلور ملوں اور آٹا چکیوں کو گندم سرکاری نرخوں پر دی جا رہی ہے ضلع میں سرکاری گندم سے زائد کی ضرورت ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے لیے فلور مل ملکان اور آٹا چکی مالکان بھی اپنے طور پر گندم خرید تے ہیں جس کی وجہ سے آٹا 60روپے کلو مقررکیا گیا ہے۔