شہریوں کیلیے تعمیر کردہ پیپلز اسکوائرمیں کمرشل سرگرمیاں

110

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عالمی بینک کے قرض سے شہریوں کی تفریح کے لیے تعمیر کیے گئے پیپلزاسکوائر میں ایک بار پھر کمرشل سرگرمیاں شروع ہوگئیں، جو انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔تفصیلات کے مطابق عوام کی تفریح کے لیے ورلڈبینک سے قرض حاصل کر کے تعمیر کیے جانے والے پیپلزاسکوائر کو کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔پیپلز اسکوائر میں شامیانہ لگا کر کھلے عام مہندی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس سے ضلعی انتظامیہ بھی تقریب کی اجازت سے بے خبر نکلی جبکہ منتظمین نے تیز آواز سے گانے بجائے اور رقص کی محفل بھی جاری رکھی۔یاد رہے کہ سندھ سیکرٹریٹ کے قریب بنائے گئے پیپلزاسکوائر میں چار ماہ قبل بھی کمرشل سرگرمیاں ہوئی تھیں، جہاں دکانیں قائم ہیں جبکہ داخلی راستوں پر ریسٹورنٹ کے لوگو چسپاں کیے گئے تھے، جس پر ایڈمنسٹریٹر کراچی نے نوٹس لے کر سخت ایکشن لیا تھا۔ایڈمنسٹریٹر کے ایکشن کے بعد پیپلزاسکوائر میں کمرشل سرگرمیوں کا سلسلہ رک گیا تھا، جو حالیہ ہونے والی تقریب کے بعد دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی اعلیٰ شخصیات یا ان کے قریبی لوگوں سے تعلقات رکھنے والوں نے تقریبات کا انعقاد کیا تھا۔