سیالکوٹ جیسے واقعات روکنے کے لیے نئے قوانین بننے چاہییں ، شیخ رشید

154
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سیالکوٹ جیسے واقعات روکنے کے لیے نئے قوانین بننے چاہییں۔ پی ڈی ایم 23 مارچ کو لانگ مارچ کا شوق ضرور پورا کرے لیکن تاریخ بدلے ، ورنہ پھر نہ کہے کہ راستے بند کر دیے ،سیالکوٹ کا واقعہ قابل مذمت ہے اور پاکستان کو اندر سے نقصان پہنچانے کی سازش ہے، سری لنکن ہائی کمشنر کو مکمل انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ملک کو بدنامی
سے دوچار کرنے والا واقعہ ہوا ہے، سیالکوٹ کے مسئلے پر حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں۔منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ 23 مارچ کو فوجی پریڈ ہوتی ہے اور یہ پاک فوج کا عالمی سطح پر منایا جانے والا دن ہے، لانگ مارچ 15 روز پہلے یا 7 روز بعد کرلیں کیوں کہ یومِ پاکستان کی پریڈ کے لیے ہمارا سارا جنگی سامان جی ٹی روڈ سے اسلام آباد پہنچتا ہے۔ بیشتر کور ہیڈ کوارٹرز بھی جی ٹی روڈ پر ہیں، اسی لیے 6، 7 روز پہلے اسلام آباد کے بعض راستے بند کردیے جاتے ہیں، اپوزیشن اپنے طریقے پر غور کرے، پھر اعتراض نہ کرے کہ ہمارے راستے بند کردیے گئے، میں 3 ماہ بعد اس پر بات کروں گا کہ اس کا کیا حل نکالا جائے لیکن اپوزیشن کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، اپوزیشن نے ساڑھے 3 سال بعد تاریخ دینے کا فیصلہ کیا اور وہ بھی غلط کیا، مولانا اس تاریخ پر ازسرنو غور کریں۔شیخ رشید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جب اسلام آباد آئے تھے وہ وقت اپوزیشن کے احتجاج کا تھا ، اب تو نئے الیکشن کا دور آگیا ہے، مولانافضل الرحمان جن کے پیچھے ہیں ان کے مقاصد اور ہیں، پہلی جماعتیں ہیں جو 4 ماہ کا وقت دے کر کمپنی کی مشہوری کر رہی ہیں، نگران حکومت نہیں آرہی، عمران خان مدت پوری کریں گے، عمران خان تین چار ماہ میں مہنگائی ختم کریں گے۔میڈیا ہائوسز دہشت گردی کی باتیںکرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں،دنیا جس طرح مسنگ پرسن اور لاء اینڈ آرڈر پر بات کررہی ہے یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے ،مولانا فضل الرحمن کو قوم سمجھ چکی ہے لوگوں نے آپ کے من و رنجن اور مرغ پلاؤ کو چھوڑ دیا ،،مولانا آپ درس نظامی کے طلبہ کو کن کے پیچھے لے جانا چاہتے ہیں، پوری دنیا لا اینڈ آرڈر اور لاپتہ افراد کی بات کر رہی اور ایسے موقع پرمیڈیا ہاؤسز سے اپیل کرتا ہوں آپ دہشتگردی کی باتیں کرنے والوں کو اہمیت نہ دیںکیونکہ اس سے انتہا پسندی کو فروغ ملے گا،ساری قوم عہد کرے انتہاپسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے۔