مذہب کی آڑ میں تشدد کرنے والوں کو نہیں چھوڑینگے ، وزیر اعظم

187
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان آنجہانی پریانتھا کمارا کی تصویر پر پھول رکھ رہے ہیں

اسلام آباد(صباح نیوز+آن لائن +اے پی پی+ مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ مذہب کی آڑ میں تشدد کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے آنجہانی سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کی یاد میں تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی اور ان کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے شہری ملک عدنان کو تعریفی اسناد پیش کیں۔تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھاکہ ملک عدنان کی بہادری اور جرات پر ہمیں فخرہے،اخلاقی قوت جسمانی قوت سے زیادہ ہوتی ہے۔وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ جس نے بھی اب دین کواستعمال کیا اور خاص طور پر رحمت اللعالمین ﷺ کے نام پر ظلم کیا، ہم نے ان کو نہیں چھوڑنا،سیالکوٹ واقعے پر سارے پاکستان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب آگے ایسا نہیں ہونے دینا ۔ عمران خان کا کہنا تھاکہ یہ کون سا انصاف ہے کہ آپ نے الزام لگایا خود ہی جج بنے اورقتل کردیا، امید ہے نوجوان ملک عدنان کو دیکھیں گے تو یاد کریں گے،ایک انسان حیوانوں کے سامنے کھڑا ہوا ۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ خود کو عاشق رسولﷺ ثابت کرنے کے لیے رسولﷺ کی سیرت پر چلنا ہوگا۔ان کا کہنا تھاکہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی نے فیصلہ کیا کہ پریانتھاکی تنخواہ ہر ماہ دی جائے گی جبکہ بزنس کمیونٹی نے پریانتھا کے لیے ایک لاکھ ڈالرجمع کیے ہیں۔عمران خان نے ملک عدنان کو پورے ملک کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ملک عدنان کو 23 مارچ کی تقریب میں تمغہ شجاعت دیا جائے گا، جب تک میں زندہ ہوں آئندہ ایسا نہیں ہونے دوں گا۔علاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیر اعظم اور کابینہ ارکان کو سانحہ سیالکوٹ سے متعلق بریفنگ دی گئی جب کہ ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سیالکوٹ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف جلد اور سخت کارروائی پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ ارکان نے سیالکوٹ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔کابینہ ارکان نے اس ضمن میں اس بات پر اتفاق کیا کہ سیالکوٹ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف جلد اور سخت کارروائی کی جائے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں17نکاتی ایجنڈے پر غور کیاگیا۔ افغانوں کو کسی تیسرے ملک جانے کے لیے زمینی یا فضائی محفوظ راستہ دینے کا معاملہ موخر کردیا گیا۔وفاقی کابینہ نے پیٹرول پر ڈیلر مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی۔گیپکو اور ٹیسکو کے سی ای اوز کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی ۔وفاقی کابینہ نے چیئرمین ایس ای سی پی عامر خان کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی،عامر خان کواگلے 3 سال کے لیے کمشنر ایس ای سی پیتعینات کیاگیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے عامر خان کو دسمبر 2018 ء میں کمشنر ایس ای سی پی تعینات کیا تھا ۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں میکرو اکنامک مشاورتی گروپ کے اجلاس کی صدارت کی،جس میں مشیر خزانہ شوکت فیاض ترین، وزیر توانائی حماد اظہر، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو موجودہ ملکی معاشی و اقتصادی صورتحال، میکرواکنامک اعشاریوں میں بتدریج بہتری، ملکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود معاشی ترقی کی شرح کو بڑھانے اور پائیدار بنانے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام پر پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح میں پچھلے سال کی نسبت ایک فی صد مزید اضافے کا امکان ہے، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی بدولت گردشی قرضوں میں کمی واقع ہوئی ہے، ریونیو میں 35 فی صد اضافہ، جس میں صرف ٹیکس کی مد میں ہی 32 فی صد اضافہ، برآمدات میں اضافہ، بڑے پیمانے کی صنعت کی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ خوش آئند ہے۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں متوقع کمی کی وجہ سے عوام تک ریلیف پہنچانے میں معاونت پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے معاشی مشاورتی گروپ کے ارکان کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اور معاشی ریلیف کو عوام تک جلد پہنچانے کے اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اعشاریے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں، حکومت نے نہ صرف گزشتہ حکومت کے وراثت میں چھوڑے ہوئے معاشی بحرانوں بلکہ کورونا وبا سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا، اب معیشت پائیدار ترقی کی طرف گامزن ہے، بڑے پیمانے کی صنعت کی پیداوار، ویلیو ایڈیشن، ریونیو اور برآمدات میں اضافہ واضح کرتا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیاں صحیح سمت میں جا رہی ہیں، رواں مالی سال کے اختتام پر معاشی ترقی گزشتہ مالی سال سے بھی زیادہ ہونے کی امید ہے۔