موروثی سیاست نہ ہونے کی وجہ سے جماعت اسلامی جمہوری پارٹی ہے

346

کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید)موروثی سیاست نہ ہونے کی وجہ سے جماعت اسلامی جمہوری پارٹی ہے‘ اسلام کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے‘ہر5سال بعد امیرجماعت کا انتخاب ہوتا ہے‘کسی رکن کو اپنا نام پیش کرنیکی اجازت نہیں‘تبلیغ اور خواتین کے حقوق کیلیے بھی کام کررہی ہے‘دیگر پارٹیوں میں شخصی اجارہ داری ہے‘ہرسال صرف نواز شریف کو لیڈر منتخب کرنان لیگ میں جمہوریت ہونے کا ثبوت ہے ۔ان خیالات کا اظہار کالم نگار، صحافی خورشید ندیم،سابق وزیراعظم نواز شریف کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک اور بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’ملک میں جماعت اسلامی کے سوا کوئی جماعت بھی جمہوری کیوں نہیں ہے؟‘‘ خورشید ندیم نے کہا کہ جماعت اسلامی میں موروثی سیاست نہیں ہے اس لیے وہاں جمہوریت بھی ہے اور مشاورت بھی ہوتی ہے‘ اس پارٹی نے بہت برے دن بھی دیکھے ہیں اور آج بھی اس کا اسمبلی میں کو ئی وزن نہیں لیکن اس کے باوجود یہ ایک پارٹی کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے‘ ملک کے اندر اور باہر اس نے ہمیشہ ایک اہم کر دار ادا کیا ہے‘ افغانستان اور کشمیر میں جماعت اسلامی کا کر دار بہت اہم اور کلیدی ہے جس کو ناصرف پاکستان کی ریاست بلکہ چین اور بھارت بھی تسلیم کر تے ہیں‘ اس کےمقابلے میں ملک کی دیگر وہ پارٹیاں جو اپنے آپ کو بڑا کہتی ہیں ان کا افغانستان اور کشمیر میں کوئی کردار نہیں ہے‘ 26 اگست 1941ء کو مولانا ابوالاعلی مودودی کی دعوت پر ہندوستان سے اسلامی سوچ کے حامل چند افراد اکٹھے ہوئے اور انہوں نے مل کر ایک جماعت کی بنیاد رکھی جس کا نام’’جماعت اسلامی‘‘ رکھا گیا، جماعت اسلامی عین دین اسلام کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے‘ اس میںہر 5 سال کے بعد ’’امیر ِجماعت‘‘ کا انتخاب ہوتا ہے‘ اس میں کسی رکنِ جماعت کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنا نام امیر کے لیے پیش کرے‘ اسی وجہ سے وہاں سب سے بہتر امیر کا انتخاب ہو تا ہے‘ جماعت اسلامی میں کوئی موروثی قیادت نہیں ہے‘ ملک کی دیگر پارٹیاں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں کہ ان میں جمہوریت قائم ہوجائے‘ اس کے علاوہ خواتین کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں‘ ان کے مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی نے مردوں سے الگ خواتین کے لیے حلقہ خواتین قائم کیا ہے‘ اس شعبے کے تحت پڑھی لکھی باشعور دینی فہم رکھنے والی خواتین ملک بھر میں خواتین کے حقوق کے حصول میں ہمہ تن مصروف رہتی ہیں‘ حلقہ خواتین کے تحت خواتین میں دین کی تبلیغ، جدید حالات اور واقعات کے مطابق ان کی رہنمائی بھی کی جاتی ہے‘ ان کو ان کے حقوق سے آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی سطح پر امداد بھی فراہم کی جاتی ہے‘ اس طرح جماعت اسلامی ایک مکمل نظام کے ساتھ سیاسی پارٹی ہے‘ اس کے ’’ مولانا ابوالاعلی مودودی ‘‘ نے بہت محنت کی جس کی وجہ سے اس پارٹی کاتوازن آج بھی برقرار ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت میں کسی نہ کسی حد تک جمہوریت موجود ہے‘ کیا یہ جمہوریت نہیں ہے کہ ہر سال ن لیگ کے پارٹی ارکان صرف نواز شریف کو ہی لیڈر منتخب کر تے ہیں‘ سیا سی پارٹیوں میں لیڈران کی تبدیلی آمریت پسند لوگوں کی ضرورت ہے اور رہے گی‘ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ سید منور حسن جب آمریت کے سامنے ڈٹ گئے تو ان کی جگہ پارٹی میں نہیں رہی اور ان کو دوبارہ منتخب نہیں کیا گیا‘ یہی جمہوریت ہے تو یہ پارٹی کی نہیں بلکہ آمریت کی پسندیدہ جمہو ریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پارٹیوں کو آپ غیر جمہوری کہہ سکتے ہیں جو ماضی میں امپائر کی انگلی کے اٹھنے کا انتظار کرتی رہی ہیں‘ انہوں نے جمہوریت کے جانے پر مٹھائیاں بھی تقسیم کیں‘ اس طر ح کے جمہوریت دشمن لوگ آج بھی سیاسی جماعتوں کی مفاہمت کو بڑی بری چیز کہہ رہی ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن وہ سیاسی جماعتیں جنہوں نے جمہوری دور میں غلطیاں کی ہیں‘ انہوں نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن ہو یا الیکشن نہ ہو‘ وہ جلسے بھی کریں گی‘ ایک دوسرے کی بات کی مخالفت بھی کریں گے‘ یہ ٹھیک ہے کہ جماعت اسلامی میں پارٹی الیکشن بہت اچھے اندا ز سے ہو رہے ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ دوسری پارٹیاں بہت بڑی ہیں اور ان کو کنٹرول کر نا آسان نہیں ہے ۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہی ایک مکمل سیاسی جماعت ہے‘ اس جماعت میں شخصی اجارہ داری کہیں نہیں‘ ملک میں کوئی پارٹی ایسی نہیں ہے جس کے لیڈر یہ خواہش رکھتے ہوں کہ ان کی پارٹی بھی جمہوری طرز پر چلے اور ایسا صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں سیا سی پارٹیاں جمہوریت سے عاری ہیں‘مسلم لیگ ن میں ایسی ہی صورتحال ہے یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ غیر اصولی لوگوں کو عوام کی طاقت فراہم کر دی جاتی ہے‘ میں متعدد مرتبہ اس بات کا اظہار کر چکا ہو ں کہ جماعت اسلامی کے سوا کسی پارٹی میں جمہوریت کا دور دور تک کہیں پتا نہیں ہے ‘ حقیقت یہ ہے کہ ان پارٹیوں کے بانیان نے بھی جمہوریت کی روایت قائم نہیں کی جس کی وجہ سے لیڈر ان پارٹیوں کو چھوڑ دیتے ہیں‘اس وجہ سے بڑی بڑی پارٹیوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں‘ اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے‘ اس صورتحال پرمذہبی اور سیا سی جماعتیں اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں اور نہ جانے کب تک یہ پارٹیاں جمہوریت کے بغیر زندہ رہیں گی۔