ڈوبتی معیشت کے اُبھرنے کا فوری امکان نہیں

310

۔2020ء کے دوران ایشیا کی بہترین پرفارمنگ مارکیٹ کا اعزاز حاصل والی پاکستانی اسٹاک مارکیٹ کا دو دسمبر کو کے ایس ای 100انڈیکس 2ہزار پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس 45ہزار اور 44ہزار پوائنٹس کی دو حد سے نیچے گر گیا اور 43200 پوائنٹس کی پست ترین سطح پر بند ہوا، مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو 332ارب روپے سے زائد کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ 2020ء کے دوران پاکستانی اسٹاک مارکیٹ نے ایشیا کی بیسٹ پرفارمنگ مارکیٹ کا اعزاز حاصل کیا تھا تو اُس وقت کے وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور دیگر حکومتی ارکان اور خود وزیر اعظم عمران خان نے اسے پاکستانی معیشت کی اچھی کارکردگی کا عکاس قرار دیا تھا۔ تاہم رواں مہینے میں اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی مسلسل تنزلی کی شکار رہی اور اس کا انڈیکس 48 ہزار پوائنٹس کی سطح تک جانے کے بعد 43 ہزار کی سطح تک گر رہا ہے۔ مارکیٹ سرمائے کا مجموعی حجم 77 کھرب روپے سے گھٹ کر 74 کھرب روپے رہ گیا، مندی کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ نومبر میں تجارتی خسارے میں اضافے کے باعث سرمایہ کار محتاط ہوکر ٹریڈنگ کررہے۔ رواں ماہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ اور اگلی مانیٹری پالیسی میں مہنگائی کی شرح کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے شرح سود میں ایک فی صد اضافے کے خدشے پرسرمایہ کاروں تشویش بڑھ گئی ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی مندی کیا آنے والے معاشی حالات کا پیش خیمہ ہے؟ تو اس کا جواب تو ان ارکان ِ حکومت کو دینا چاہیے جنہوں نے سال 2020ء کے دوران امریکی ادارے ’مارکیٹ کرنٹس ویلتھ نیٹ‘ کی جانب سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو ایشیا کی بیسٹ پرفارمنگ مارکیٹ کا اعزاز حاصل کر نے پر بغلیں بجائی تھیں کہ ملکی معیشت خوب ترقی کرر ہی ہے۔ تاہم ایک سال کے بعد حالیہ مہینوں میں ملکی اسٹاک مارکیٹ اس وقت زبردست دباؤ کا شکار نظر آتی ہے۔ کئی ماہ سے اس کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ کے بعد 2دسمبر کو اسٹاک مارکیٹ میں زبردست مندی دیکھنے میں آئی اور اسٹاک مارکیٹ کی کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2100 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ اس سے ہماری پوری معیشت کی تباہ کاریوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔
2دسمبر 2021 کو ریکارڈ مندی کی وجہ سے اسے اسٹاک مارکیٹ کے لیے سیاہ دن قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ 2020 میں کورونا وائرس کی عالمی وبا پھوٹنے کے بعد جب پاکستان میں لاک ڈاؤن لگانے کی تیاری ہو رہی تھی تو 16 مارچ 2020 کو اسٹاک مارکیٹ میں 2000 پوائنٹس سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی تھی اور 3 دسمبر کو 2135 پوائنٹس کی کمی موجودہ سال میں ایک کاروباری دن میں سب سے بڑی کمی رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان کی وجہ پاکستان کے معاشی میدان میں تواتر سے ظہور پزیر ہونے والے ایسے واقعات ہیں جن کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر منفی صورت میں پیدا ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر گزشتہ برس یہ ایشیا کی بہترین کارکردگی والی مارکیٹ تھی تو اس کی وجہ اس وقت کے معاشی حالات تھے اور آج کے معاشی حالات اور اشاریے اس بات کا واضح پتا دیتے ہیں کہ ملکی معیشت گراوٹ کی شکار ہے اور اسٹاک مارکیٹ اس خراب معاشی صورت حال کا پتا دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی معیشت اتنی بلند شرح سود کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتی اس لیے پاکستانی معیشت میں منفی رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کیوں کریش ہوئی؟ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل مندی کے رجحان اور 2دسمبر کو اس میں موجودہ سال کی سب سے بڑی والی کمی کے بارے میں اسٹاک مارکیٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ معیشت کے میدان میں آنے والی منفی خبروں کے نتیجے میں نچلی سطح پر جا پہنچی ہے۔ سرمایہ کاروں کے مطابق پاکستانی اسٹاک مارکیٹ بہت حساس ہے اور کسی بھی منفی خبر پر بہت جلدی ردعمل دکھاتی ہے اور موجودہ صورت حال بھی منفی خبروں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں ایک چھوٹی سی منفی خبر پر بھی بہت زیادہ ردعمل آتا ہے اور اب تو معاشی میدان سے مکمل طور پر منفی خبریں ہی آ رہی ہیں جس کا اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان سے پتا چلتا ہے۔
شرح سود میں ہونے والے اضافے نے حصص کے کاروبار پر بہت زیادہ منفی اثر ڈالا ہے اور اس میں مزید متوقع اضافے کی خبروں نے بھی کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور اس کی وجہ سے جاری کھاتوں کے خسارے میں اضافہ اور مقامی کرنسی پر آنے والے دباؤ نے اسٹاک مارکیٹ کو منفی خبروں کی زد میں لے رکھا ہے۔ چند سرمایہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے سال گزشتہ کہ کورونا کی وبا پھوٹنے کے بعد اسٹاک مارکیٹ 30 ہزار پوائنٹس سے بھی نیچے چلی گئی تھی لیکن پھر معیشت میں بہتری اور شرح سود کو نیچے گرایا گیا تو اس کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر مثبت انداز میں بہتری آئی کاروبار میں تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس بڑھ کر 48 ہزار کی سطح تک پہنچ گیا۔ لیکن مسلسل کئی ہفتوں سے معاشی محاذ پر منفی خبروں نے اسٹاک مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے جس میں سب سے بڑی وجہ شرح سود میں اضافہ ہے اور اس نے اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر منفی اثرات مرتب کیے۔
اس پوری صورتحال کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں درج کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہوا ہے اور اگر صرف گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو لسٹڈ کمپنیوں کے منافع میں 10 کھرب روپے سے زیادہ کا اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن اس کے باوجود اگر اسٹاک مارکیٹ گر رہی جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جن فنانسنگ مہنگی ہوگی تو لازمی طور پر اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر منفی اثر پڑے گا۔ مارکیٹ میں مندی سے کون نقصان میں رہا؟ اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے نقصان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسٹاک بروکرز کا کہنا ہے کہ عموماً چھوٹے سرمایہ کار ادھار پر کام کرتے ہیں اور مندی کی وجہ سے ان کا بنیادی سرمایہ بھی ڈوب چکا ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت وہ چھوٹے سرمایہ کار موجود ہیں جن کے پاس اپنا ذاتی تھوڑا بہت سرمایہ ہے اور وہ اپنے شیئرز ہولڈ کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت بیرونی سرمایہ کار بھی مارکیٹ میں نہیں ہیں جس کی وجہ سے مندی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 3دسمبر کو بھی مندی کے بادل چھائے رہے تاہم کے ایس ای 100انڈیکس 43200 پوائنٹس کی سطح پر ہی برقرار رہا۔ لیکن اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں اسٹاک مارکیٹ مندی کی گھنٹی بتا رہی ہے کہ ڈوبتی معیشت میں اُبھرنے کا امکان نہیں ہے۔