سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈیلی ویجرز کو 2 ماہ سے تنخواہ نہیں مل سکی

126

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈیلی ویجز محنت کش دو ماہ کی تنخواہ کی عدم ادائیگی پر ذہنی اذیت کا شکار ہیں،محنت کشوں نے چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ، وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر محنت سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈیلی ویجز ملازمین گزشتہ کئی عرصے سے تنخواہیں پوری نہ ملنے کے باعث کشمکش میں مبتلا تھے اور پچھلے دو ماہ سے ایک روپے کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ اس ضمن میں دورانِ سروے محنت کشوں کا نمائندے سے فریاد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس مہنگائی کے طوفان میں تنخواہیں روکنا کہاں کا انصاف ہے جبکہ ہر گھر کے اخراجات پہلے کے مقابلے میں مزید بڑھ چکے ہیں۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے لیکن ذمے داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈیلی ویجز ملازمین کا مزید کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر ہماری تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی گئی تو ہمیں مجبوراً احتجاج کرنا ہوگا جس کی تمام تر ذمے داری سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کے بدعنوان ٹولے نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر خوراک اور سیکرٹری خوراک کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ہے، تین سال گزرنے کے باوجود ڈائریکٹر فنانس سید شاہ حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس سجاد محمد اعلیٰ افسران کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں، ملازمین کا کہنا تھا کہ سیکرٹری سروس اور چیف سیکرٹری اپنے دفاتر میں ائرکنڈیشنڈ دفاتر میں مزے کررہے ہیں ان دونوں کرپٹ ذمے داران کو محنت کشوں کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں، یہ لوگ اپنے رشتے دار ملازمین کو تو گھر بٹھا کر نواز رہے ہیں جبکہ پابندی سے کام کرنے والے دہاڑی دار محنت کشوں کی گزشتہ دو ماہ کی تنخواہیں روک کر نئے آنے والے ڈائریکٹر جنرل کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ ان کی تنخواہوں میں غیرقانونی طور پرکٹوتیوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے جو کہ سندھ مِنِمَم ویجز ایکٹ 2015ء کے سیکشن 4 (1) کے تحت فی ملازم کم از کم پچیس ہزار بنتی ہے لیکن کسی بھی ملازم کو اتنی تنخواہ نہیں دی جاتی، تاہم اس کے باوجود انہیں وقت پر اور پوری تنخواہ ملنا تو کُجا یہاں تو تنخواہیں ہی دو ماہ سے بند ہیں۔ علاوہ ازیں ملازمین نے نمائندے کو یہ بھی بتایا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈیلی ویجز 216 ملازمین جن میں ٹیکنیکل و نان ٹیکنیکل ملازمین بھی شامل ہیں، کو تین سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک مستقل بھی نہیں کیا جارہا۔