مین پوری کنگ کیخلاف شکایت جرم بن گیا، اکبرلغاری

105

ماتلی(نمائندہ جسارت) تعلقہ بلڑی شاہ کریم کے گائوں صدیق لغاری کے علی اکبرلغاری ، رسول بخش لغاری اور ابراہیم سٹھیو نے کہا ہے کہ مین پوری کنگ کے خلاف شکایت کرنا ہمارا جرم بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انڈین سفینہ اور مضر صحت مین پوری کی کھلے عام فروخت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی اور آئی جی سندھ سمیت ڈی آئی جی حیدرآباد کو تحریری درخواست دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم نے ٹنڈو محمد خان میں منشیات سمیت لاکھاٹ روڈ ستر موری کے مین پوری اور انڈین سفینہ کنگ اکبر لغاری کے خلاف کھل کر صدائے احتجاج بلند کیا۔ گوٹھ صدیق لغاری کے علی اکبر نے کہا کہ آئی جی پولیس سندھ کو دی گئی ہماری درخواست پر انکوائری ٹیم نے تعلقہ شاہ کریم پہنچ کر DSP کی موجودگی میں میرا تحریری بیان لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسی رات ہمارے گائوں پر پولیس نے چڑھائی کی اور اوطاق پر سوئے ہوئے اصغر لغاری کوگرفتار کر لیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس زبردستی ہمارے گھروں میں گھس آئی۔ خواتین اور بچوں کو اتنا دہشت زدہ کیا کہ ایک بچے کو دل کا دورہ بھی پڑ گیا۔انہوں نے بتایا کہ لیڈیز پولیس بھی ان کے ساتھ نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ 2019 میں اصغر لغاری DIG حیدرآباد کے سامنے اپنے حلفیہ بیان میں تحفظ کی اپیل بھی کر چکا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہمارے گھروں میں پولیس کی بلا جواز چڑھائی کرنے اور جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے۔