بحراوقیانوس کے مقابل چینی اڈے کا منصوبہ

174

 

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا اور چین کے درمیان مختلف خطوں میں اثر و نفوذ بڑھانے کے لیے مسابقت جاری ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کی تازہ خفیہ رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین وسطی افریقا کے ملک استوائی گنی میں اپنا ایک فوجی اڈا بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی ذمے داران کے مطابق یہ اقدام بحر اوقیانوس میں چین کے پہلے مستقل بحری وجود کا موقع فراہم کرے گا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا کہ امریکی ذمے داران نے خفیہ انٹیلی جنس معلومات کی تفصیلات پر گفتگو سے انکار کر دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ چینی جنگی جہاز امریکا کے مشرقی ساحل کے نزدیک دوبارہ سے اسلحہ سے لیس ہونے اور دیکھ بھال کی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ امر وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان کے اندیشوں کو جنم دے رہا ہے۔ ادھر واشنگٹن استوائی گنی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ چین کی پیش کو مسترد کر دے۔ امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر جون وائنر نے اس سلسلے میں اکتوبر میں استوائی گنی کا دورہ بھی کیا تھا۔امریکی ذمے داران نے گمان ظاہر کیا ہے کہ چین استوائی گنی کے اقتصادی دارالحکومت باٹا پر کنٹرول چاہتا ہے۔ اس میں عملی طور پر خلیجِ گنی کے گہرے پانی میں چین کی ایک تجارتی بندرگاہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ گیبون شہر کو وسطی افریقا سے ملانے والی ایک بڑی شاہراہ بھی اس کا حصہ ہے۔ افریقا میں امریکی عسکری کمان کی قیادت افریکوم کے کمانڈر جنرل اسٹیفن ٹاؤنسنڈ نے بھی چین کی جانب سے سب سے بڑا خطرہ افریقا میں بحر اوقیانوس کے ساحل پربحری تنصیب کو قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ چین نے اپنا پہلا بیرونی فوجی اڈا 2017ء میں جیبوتی میں قائم کیا تھا۔ چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی کمپنیوں نے 20برس کے دوران افریقا کے گرد 100 تجارتی بندرگاہیں بنائیں۔