بلجیم: کورونا پابندیوں کیخلاف پر تشدد مظاہرے

207
بلجیم: کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف شہری ریلی نکال رہے ہیں‘ پولیس روکنے کی کوشش کررہی ہے‘ مظاہرین نے سڑک پر آگ لگا رکھی ہے‘ اہل کار زخمی نوجوان سے بات کررہا ہے

 

 

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی ملک بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے کیے گئے سخت اقدامات کے خلاف مظاہروں میں 8ہزار افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا، جب کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر جلتی ہوئی اشیا اور بوتلیں پھینکی گئیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق فرانس اور نیدرلینڈز کے بعد دیگر یورپی ممالک میں بھی ویکسین کی مخالفت عروج پر ہے۔برسلز میں ہونے والے احتجاجی مارچ کے دوران پولیس نے خاردار تارلگا کر مظاہرین کو یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز کی جانب جانے سے روک دیا۔ 2ڈرون طیاروں اور ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے احتجاجی مارچ کی نگرانی کی گئی۔پولیس اورمظاہرین میں جھڑپوں میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے تیز دھار پانی اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کی۔ دوسری جانب آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین کی شریک موجد کا کہنا ہے کہ آئندہ وبائیں کورونا وائرس سے بھی زیادہ مہلک ہو سکتی ہیں۔ دنیا کو کورونا وبا سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ رچرڈ ڈمبلبی لیکچر میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سارہ گلبرٹ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پہلا یا آخری موقع نہیں کہ جس میں کسی وائرس کے سبب ہماری زندگیاں یا معاشی صورتحال متاثر ہوئی ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ اگلی وبائیں اس سے بھی بدتر ہو سکتی ہیں۔ سارہ گلبرٹ کا کہنا تھا کہ ہم ایسی صورتحال کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں کہ ہم کورونا کے کٹھن حالات میں سے نکلیں تو اندازہ ہو کہ ہمارے پاس کسی آیندہ وبا سے احتیا ط کی تدابیر اپنانے کے لیے معاشی وسائل نہیں ہیں۔ ویکسین کی موجد کا کہنا تھا کہ ہم نے اس وبا کے مقابلے میں جتنی معلومات اور تجربات حاصل کیے ہیں انہیں ضائع ہونے سے بچانا ناگزیر ہے۔