اماراتی قوانین اور شہزادی شیخا ہند

377

امارات اور بھارتی اخبارات سے متحدہ عرب امارات کی تازہ ترین خبروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کی شہزادی نے بھارتی چینل ’’زی نیوز‘‘ کے اینکر سدھیر چودھری کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے تقریب کی انتظامیہ پر برس پڑیں۔ شہزادی ہند بنت فیصل القاسمی سوشل میڈیا پر اکثر اسلا م کے خلاف مواد پر بر ہم، پوسٹس اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والوں پر جرأت مندانہ موقف کے لیے جانی جاتی ہیں اور اسلامو فوبیا کے باعث انہوں نے سدھیر چودھری کی آمد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں شارجہ کے شاہی قاسمی خاندان کی شہزادی نے لکھا کہ سدھیر چودھری اپنے ٹی وی شوز کے ذریعے اسلامو فوبیا کو فروغ دیتے ہیں اور اسلام کا تشخص خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہزادی ہند نے کہا کہ ’’گوبر کھانے والے آدمی کو جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بکواس کرتا ہے اس امن پسند روادار ملک میں کیوں بلایا گیا؟‘‘ یہ سب کچھ کہنا اماراتی شہزادی ہند کا کفریہ قوانین ریاست میں بغاوت، ہی نہیں بلکہ بھارت امارات دوستی پر بھی بھر پور طمانچہ ہے۔ جس میں بہت تیزی سے اضافہ کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات سخت اسلامی قوانین میں تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے ’حدود اللہ‘ کے خلاف قوانین بنانے میں مصروف ہے۔
اب متحدہ عرب امارات میں غیرشادہ شدہ جوڑے کا ساتھ رہنا سمیت شراب خریدنا اور پینا جائز ہے اور اس کو قانونی تحفظ حاصل ہو چکا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل جیسے معاملات کو قابل سزا جرائم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں نئے قوانین کے مطابق اکیس سال یا اس سے زائد عمر والے افراد کے شراب پینے، بیچنے یا شراب ساتھ رکھنے پر اب کوئی رکاوٹ نہیں۔ نئے قوانین کے اعلان سے قبل مقامی افراد کو شراب پینے، خریدنے یا ٹرانسپورٹ کرنے کے لیے خصوصی پرمٹ درکار تھا۔ تاہم اب مسلمان بھی بغیر کسی پرمٹ کے شراب اپنے گھروں پر رکھ اور پی بھی سکیں گے۔
اماراتی حکومت نے سخت اسلامی قوانین میں ان نرمیوں کا اعلان سات نومبر کو کیا اور اس میں اضافے کی مزید گنجائش بھی رکھی جس میں کہا گیا ہے سرمایہ کاری اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے جو ضروری ہوگا وہ کیا جائے گا۔ ان اصلاحات کا اعلان سرکاری نیوز ایجنسی پر کیا گیا اور ان کی تفصیلات حکومتی حمایت یافتہ ’دا نیشنل‘ نامی اخبار میں بھی چھپیں۔ امارات نے 13اکتوبر 2020ء کو امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کو بطور ایک ریاست تسلیم کیا تھا اور اس معاہدے پر دستخط صدر ٹرمپ اور ان کی کابینہ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میں کیے گئے تھے۔ اس پیش رفت کے بعد توقع تھی کہ متحدہ عرب امارات میں یہودی سرمایہ کاری اور سیاحوں کی آمد بڑھے گی اور ایسا ہی ہوا ہے۔ علاوہ ازیںاماراتی حکومت کا کہنا ہے کہ عرب ملک میں کام کاج کی غرض سے دنیا بھر کے لوگ آباد ہیں، جو ذاتی سطح پر آزادی کے متمنی ہیں۔ اماراتی حکام اپنے ملک کو مغربی ممالک سے زیادہ ہم آہنگ بنانے کے لیے آہستہ آہستہ بداخلاقی نما اصلاحات و نرمی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور تازہ اقدامات بھی اسی کی ایک کڑی ہیں۔ بہت یہ ہوتا کہ دنیا بھر کے لوگوں میں رائج مذاہب میں کس مذہب یا دین میں غیرشادہ شدہ جوڑے کا ساتھ رہنا سمیت شراب خریدنا اور پینا جائز ہے۔ پاکستان میں بھی برسوں سے اقلیتوں اور دیگر غیر مسلموں کے نام پر شراب خانے کھلے ہوئے ہیں لیکن یہاں کسی بھی اقلیتی عالم نے کبھی اس کی حمایت نہیں کی۔ اس سلسلے میں اقلیتوں کہنا ہے غیر مسلموں سے زیادہ یہاں پاکستان کے شراب خانوں سے مسلمان خرید اور پی رہے ہیں، اس لیے اقلیتوں کے نام پر کھلے شراب خانوں کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
قوانین میں تازہ ترامیم کے بعد اب متحدہ عرب امارات میں غیر شادی شدہ جوڑوں کو ایک ساتھ رہائش کی اجازت ہے۔ قبل ازیں غیر شادی شدہ لڑے لڑکی کا ساتھ قیام ممنوع تھا۔ گو کہ بالخصوص دبئی میں حکام اکثر غیر ملکیوں کے حوالے سے۔ ذرا نرم رویہ رکھتے تھے تاہم پھر بھی سزا کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔ اماراتی حکومت نے غیرت کے نام پر قتل جیسے کیسز میں تحفظ ختم کر دیا ہے یہ ایک درست اقدام ہے اور اس کی وجہ سے بے گناہ افراد کو تحفظ ملے گا۔ قبائلی روایات میں اگر کسی خاتون کے بارے میں یہ سمجھا جائے کہ وہ یا اس کے اعمال خاندان کے لیے بدنامی کا باعث بنے، تو اسے تشدد یا قتل تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ایسے جرائم کے حوالے سے غیر واضح قوانین اب ختم ہو گئے ہیں۔ حکومت ِ امارات کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں ہر ایک مقامی شہری کے مقابلے میں نو غیر ملکی شہری آباد ہیں۔ اس تناظر میں یہ اصلاحات کافی اہم ہیں۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ اب متحدہ عرب امارات میں مقیم غیر ملکی شہریوں کے لیے یہ ضروری نہیں کہ شادی بیاہ، طلاق اور دیگر معاملات میں صرف اسلامی شریعہ قوانین کا سہارا لیا جائے۔
یہ ٹھیک ہے کہ اماراتی پرنسز شیخا ہند بنت فیصل القاسمی بھارت میں متنازع شہریت کی قانون کی بھی مخالف ہیں کہا اور ان کہنا ہے چینل ’’زی نیوز‘‘ کے اینکر سدھیر چودھری نے 2019 – 2020ء کے دوران متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف شدید زہر اْگلا تھا اور اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا تھا بھارت میں موجود 20کروڑ سے زائد مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اس بدنام زمانہ بھاری اینکر سدھیر چودھری کو انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا نے دْبئی میں ایک ایکسپو 2020ء میں شرکت کے لیے بْلایا تھا جہاں پر متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہند بنت فیصل القاسمی نے اْن کی خوب درگت بنائی جو اْن کو عمر بھر یاد رہے گی۔ اماراتی پرنسز شیخا ہند بنت فیصل القاسمی کا بھارت میں متنازع شہریت قوانین پر غصہ درست لیکن ان کے اپنے ملک کے حکمران نہ صرف کوئی عام بل پاس کر رہے ہیں بلکہ حقیقت میں عالم کفر کے قوانین کو اختیار کرکے اسلام اور اسلامی قوانین کو غیر ترقی یافتہ، فرسودہ بتا رہے ہیں۔ قبل ازیں اپنے کالموں میں لکھا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے کشمیریوں کی جدوجہد کو کو تباہ کرنے کے بھارتی منصوبوں کو عملی طور پر نافذ کرنے لیے ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کشمیر میں کرنے کی تمام تر منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ اس منصوبے میں اسرائیل اور امریکا بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کی پہلی پرواز شارجہ سے سری نگر بھی چلائی جاچکی اور یہ پرواز روزانہ کی بنیاد پر چلانے کا منصوبہ تھا لیکن پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی کی وجہ اس پر واز کو ہفتے میں ایک کر دیا گیا ہے اس گُھپ اندھیرے میںجھلملاتی شہزادی شیخا ہندکی چمک نے بھارت کو متنبہ کر دیا ہے کہ متحدہ عرب امارات آج اسلامی نہ سہی لیکن صرف اور صرف مسلمانوں کا ملک تھا اور رہے گا۔