پورٹل طرزِ حکومت (آخری حصہ)

263

خود رائی، خود بینی، خود غرضی، انا پرستی، برخود راستی، عُجبِ نفس اور نَخوت وکِبروغرور ایک نفسیاتی بیماری ہے اور اس میں ہمارے وزیرِ اعظم مبتلا ہیں، سوا تین برس حکومت سے لطف اندوز ہونے کے باوجود وہ ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن کی داستانوں پر جی رہے ہیں، اُن کے کشکول میں اپنا کوئی ایسا کارنامہ نہیں ہے جسے مارکیٹ میں عوام کی پزیرائی کے لیے پیش کرسکیں۔ بس اُن کی ایک جیسی تقریریں اور خطابات ہیں جو قوم گزشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے سُن رہی ہے، لیکن اب بھی وزیر اعظم کو یقین نہیں آرہا کہ یہ تقریریں قوم کو اَزبر ہوچکی ہیں اور اب ان میں کوئی کشش باقی نہیں رہی، بلکہ لوگوں کی طبیعت پر گراں گزرتی ہیں اور جن لوگوں کو سنانے کے لیے کی جارہی ہیں، انہیں ٹی وی سے دور رکھنے کا سبب بن رہی ہیں۔
اب ماہرینِ معیشت کے نزدیک تازیانۂ عبرت برسنے کو ہے، ملک کے مجموعی قرضے عنقریب جی ڈی پی کے برابر ہونے جارہے ہیں، ملک کے اثاثے گروی رکھے جارہے ہیں، آئی ایم ایف کا حالیہ پیکیج اور سعودی عرب سے جو تازہ ترین قرض لیا ہے، اس کی شرائط ہولنا ک ہیں اور اگر ملک اسی ڈگر پرچلتا رہا تو کسی کے لیے بھی اس کا سنبھالنا مشکل ہوجائے گا، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سوا پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے، کیونکہ جب تک کوئی پارٹی عوام سے واضح مینڈیٹ لے کر نہ آئے، اس کے لیے جاری نظام میں کوئی جوہری تبدیلی لانا ممکن نہیں ہوگا۔ مسائل بدستور ناقابلِ حل ہوتے جارہے ہیں، لیکن وسط مدتی تازہ انتخابات کے سوا کوئی اور قابلِ عمل فارمولا نہیں ہے۔ جو باتیں سرگوشیوں میں کی جارہی تھیں، اب سوشل میڈیا پراس کا صوت وآہنگ بلند ہوگیا ہے اور موجودہ نظام کوناکام ہائی برِڈ نظام سے تعبیر کیا جارہا ہے، الغرض منصوبہ بندی کرنے والوں نے 2018ء میں جو خواب دیکھا تھا، اس کی تعبیر نہایت بھیانک ہے، لیکن وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو یا تو اس کا اِدراک نہیں ہے یا تجاہلِ عارفانہ،خود فریبی وفریب دہی سے کام لے رہے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کے مقرّبین اور درباریوں میں سے کسی کی مجال نہیں ہے کہ وہ اُن کے سامنے حقائق بیان کریں یا ناکامیوں کی نشاندہی کریں یا بیتُ الجِنّ (ایوانِ اقتدار)سے باہر جو حالات ہیں، اُن کی صحیح تصویر اُن کے سامنے پیش کریں، البتہ وزیر مذہبی امور اُن کو ’’امام العاشقین‘‘ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور اس کی قسم کھانے کے لیے تیار ہیں، حالانکہ عشقِ مصطفی کا زبانی دعووں سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کا اظہار عمل، رویے اور کردار سے ہوتا ہے، فارسی ضرب المثل کا ترجمہ ہے: ’’مشک وہ ہے جو خود خوشبو دے، نہ کہ عطر فروش اس کے قصیدے پڑھے‘‘، نیز: ’’خوب رواور دلربا چہرے کو بنائو سنگھار کی ضرورت نہیں ہوتی‘‘۔