نظام تو صرف اسلام ہے

261

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ عالمی گورننس کے نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بین الاقوامی امور میںترقی پزیر ممالک کو مزید نمائندگی دی جانی چاہیے۔ چینی صدر نے ایک عالمی فورم امپیرئیل اسپرنگزسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں عوام کو بے شمار غیر معمولی بحرانوں کا سامنا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہمیں کھلے پن، رواداری، مشاورت اور تعاون پر قائم رہنا چاہیے۔ انہوں نے دنیا کے نظام کو کثیر الجہتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب عالمی امور کو مشاورت سے چلایا جانا ہے۔ اور دنیا کا مستقبل اور تقدیر تمام ممالک کے ہاتھوں میں ہو۔ چینی صدر نے غالباً امریکا کے نیو ورلڈ آرڈر یا یک قطبی نظام کے مقابلے میں کثیر القطبی نظام کی تجویز دی ہے۔ دنیا نے کئی عشروں تک روسامریکادو قطبی کھینچا تانی کے نتائج دیکھ لیے۔ اب چین تیزی سے اُبھرتی ہوئی معیشت ہے اور دنیا میں اس کا پھیلائو دیگر ممالک کی نسبت زیادہ تیز رفتار ہے، البتہ ابھی جڑیں مضبوط نہیں ہیں۔ اس اعتبار سے تو چینی صدر کا یہ کہنا درست ہے کہ عالمی گورننگ کے نظام میں اصلاحات ہونی چاہئیں کہ یہ تمام کا تمام امریکا کے کنٹرول میں تھا اور ہے۔ لیکن چینی صدر نے جس چیز کو نظام کہا ہے وہ کسی طور بھی نظام کہلانے کے لائق نہیں۔ ان کا زور گورننس پر ہے جب کہ دنیا کو انصاف اور عدل کا نظام چاہیے۔ عدل و انصاف کا نظام صرف کتابوں میں نہیں ملتا بلکہ اس دنیا اور آسمان نے اپنی آنکھوں سے یہ نظام سیکڑوں برس تک دنیا پر نافذدیکھا ہے اس نظام کو دنیا کے 23 لاکھ مربع میل تک پہنچانے والے حضرت عمر فاروقؓ نے صرف فتوحات نہیں کی تھیں انہوں نے زمین پر حکمرانی نہیں کی تھی بلکہ دنیا کو نظام حکومت دیا تھا۔ یہ وہی نظام حکومت تھا جو اللہ نے نبی آخری الزماں محمدؐ کے ذریعے دنیا کو دیا اور پھر یہ نظام سیکڑوں برس دنیا پر سایہ فگن رہا، اسے سازشیں کرکے اصلاح کے نام پر تباہ کیا گیا، دھوکے سے مسلمانوں کو ان ممالک سے نکالا گیا جہاں انہوں نے اس نظام کی برکات بلا تخصیص عوام تک پہنچائیں۔ اب ذرا امریکی اور چینی نظام کا جائزہ لیں۔ امریکا کے یک قطبی نظام نے دنیا کو تقریباً تباہ کردیا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کی سکت اب روس میں نہیں، چین تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اس کی معیشت ترقی کررہی ہے اور اس ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے عزائم توسیع پسندانہ بھی ہیں۔ وہ اسلحہ اور بمباری کے زور پر کہیں قابض نہیں ہونا چاہتا، معاشی دبائو کا شکار ملکوں کو خصوصی طور پر چین کا مرہون منت بنایا جارہا ہے۔ پاکستان اگرچہ بہت زیادہ تباہ حال ملک نہیں پاکستان میں بہت صلاحیتیں ہیں لیکن پاکستان کے ساتھ سی پیک کے معاہدوں سے اب تک قوم اس طرح واقف نہیں جس طرح اسے ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان کو کیا ملے گا، کیا دینا ہوگا، ادائیگی نہ کرنے پر کیا جرمانہ ہوگا، پاکستانی قوم اس سے واقف نہیں۔ اگر یہ بہت اچھی چیز ہے تو چھپائی کیوں جاتی ہے اور خراب چیز ہے تو مسلط کیوں کی جارہی ہے۔ پورا ملک سی پیک کے فوائد کے انتظار میں ہے۔ بالآخر گوادر سے لوگ اُٹھے ہیں اور پورے بلوچستان کے لوگ تیار بیٹھے ہیں، سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس مرتبہ بلوچستان کے حقوق کی تحریک کی قیادت کوئی قوم پرست نہیں کررہا بلکہ حضرت عمر فاروق کے نظام کو اس ملک میں بھی لانے والوں کا پیروکار مولانا ہدایت الرحمن بلوچ ہے جو عوام کو حقوق سے روشناس بھی کرارہا ہے اور اسلام سے بھی۔ بات چینی صدر کے نظام میں اصلاح والے بیان سے شروع ہوئی لیکن دنیا میں کسی نظام کی بات فاروق اعظمؓ اور اسلامی نظام حیات کے حوالے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ یہ حوالہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے کیوں کہ یہ نظام جو درحقیقت نظام تھا پوری دنیا پر برسوں قائم رہا۔ چینی صدر کہتے ہیں کہ ہمیں کھلے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے، رواداری، مشاورت اور تعاون پر قائم رہنا چاہیے۔ یہ سارے کام ممالک کے درمیان کرنے سے قبل اپنے اپنے ملک کے عوام کے ساتھ کرنا زیادہ ضروری ہیں۔ کیا چینی صدر یہ بتا سکتے ہیں کہ اپنے ملک میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ وہ کس حد تک کھلے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ چین تو مسلمانوں کے وجود سے ہی انکاری ہے۔ انہیں چینی کمیونٹی کہتا ہے، پھر کس طرح وہ دنیا میں نظام کی اصلاح کی بات کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ چینی حکومت کتنی رواداری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ان کو مساجد، مذہبی امور اور اپنے تشخص کو برقرار رکھنے یا ظاہر کرنے کی کس حد تک اجازت ہے۔ ان کو اصلاح کے نام پر قید میں کیوں رکھا جاتا ہے۔ حالات ایسے نہیں جیسے ظاہر کیے جارہے ہیں، وہ یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ یک قطبی نہیں کثیر القطبی نظام ہونا چاہیے لیکن نظام تو ہونا چاہیے۔ یہ ڈنڈے اور بندوق کے زور والا اکثریت کے بل پر چلنے والا دھوکے اور فراڈ کے ذریعے لوگوں پر مسلط کیا جانے والا بندوبست کسی طور بھی نظام نہیں کہلایا جاسکتا۔ اگر دنیا کسی نظام کی متلاشی ہے، کسی قسم کی اصلاح کرنا چاہتی ہے تو اسے اسلام ہی کے سایہ عاطفت میں پناہ ملے گی کیوں کہ نظام تو اسلام ہی ہے۔ وہ اصلاح کی بات کر رہے ہیں اور اللہ نے پہلے ہی اصلاح کے نام پر فساد کی نشاندہی کر دی ہے ۔چینی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارا کثیر الجہتی کا عزم تبدیل نہیں ہو گا ۔ لیکن یہ بات ان کو کون سمجھائے کہ دنیا کی تقدیر اور مستقبل انسانوں کے ہاتھ میں نہیں آ سکتا اور نہ رہ سکتا ہے ۔ کل کیا ہو گا یہ تو دنیا بنانے والے ہی کے علم میں ہے ۔ پوری دنیا مل کر بھی اپنے مستقبل اور تقدیر کو ہاتھ میں نہیں لے سکتی ۔ بہتر نظام ، عوام کی بہتری اور انصاف مل کر نظام بناتے ہیں اور یہ صرف اسلام میں ملتا ہے ۔