شہریوں کا قتل،ناگالینڈ کی ریاست نے بھارتی فوج کیخلاف مقدمہ درج کرادیا

150

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) ریاست ناگالینڈ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کے دوسرے روز پر تشدد کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ادھر ریاستی پولیس نے عام شہریوں کی ہلاکت کے لیے فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے کہ فورسز نے دانستہ طور پر عام شہریوں کو قتل کیا۔ پولیس نے فوجی یونٹ پر ارادتاً قتل کا الزام لگایا ہے۔ واقعے کی تفتیش کے لیے ریاستی پولیس کی ایک خصوصی تفتیشی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگا لینڈ میں اتوار کی شام کو سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی جس میں ایک اور شہری ہلاک ہو گیا۔ اس طرح اس واقعے میں اب تک 15 افراد، 14 عام شہری اور ایک فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ریاست میں شدید کشیدگی کا ماحول ہے اور حکام نے امتناعی احکامات کے تحت دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے۔ متاثرہ ضلع میں کرفیو نافذ ہے جبکہ بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ اور فون کی سہولیات معطل کر دی گئی ہیں۔ اس دوران مقامی لوگوں اور متعدد تنظیموں نے ہلاک ہونے والے عام شہریوں کے لیے شمعیں روش کیں۔ تشدد کا آغاز سنیچر کو اس وقت ہوا تھا جب نیم فوجی دستوں نے عسکریت پسندوں کے شبے میں 6 مزدوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے خلاف پر تشدد احتجاجی مظاہرے شروع ہو ئے۔ مظاہروں کے دوران مقامی لوگوں نے فوجی کیمپوں کی طرف مارچ کیا اور ان پر حملے شروع کر دیے۔ فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں مزید 7 افراد ہلاک ہو گئے۔اس دوران ریاستی حکومت نے فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ بھارت کی بعض شمال مشرقی ریاستوں اور کشمیر میںآرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (افسپا) نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت فوج اور نیم فوجی دستوں کو ایسے وسیع تر اختیارات حاصل ہیں کہ وہ، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے سرچ آپریشن، گرفتاری، مار پیٹ کرنے اور آپریشن کے نام پر کسی کو بھی ہلاک کرنے کی مجاز ہیں اور جب تک مرکزی حکومت اجازت نہ دے اس وقت تک فوج کے خلاف کوئی کارراوئی بھی نہیں کی جا سکتی۔ اس دوران ناگا لینڈ کی حکومت اور ریاست کی متعدد تنظیموں نے اس متنازعہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے حکومت پر یہ کہتے ہوئے نکتہ چینی کی ہے کہ مرکزی حکومت ہر برس ریاست کو ایک ڈسٹرب علاقہ بتا کر ناگا لینڈ میں افسپا میں توسیع کر دیتی ہے۔ ادھر بھارت کی حزب اختلاف کی تقریبا سبھی جماعتوں نے بھی اس واقعے کی مکمل تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔