حافظ نعیم سے ایم کیوایم وفد کی ملاقات ،اے پی سی میں شرکت کی دعوت

221
کراچی: ایم کیو ایم کا وفد ادارہ نور حق میں ملاقات کے بعد حافظ نعیم الرحمن ساتھ میڈیا سے گفتگوکررہا ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور دیگر ذمے داران سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے پیر کوادارہ نور حق میں ملاقات کی ۔ سندھ حکومت کی جانب سے منظور کردہ بلدیاتی ترمیمی بل 2021ء کے خلاف ایم کیو ایم کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ۔ وفد میں سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن ، کنور نوید جمیل ، محمد وسیم ،اقبال محمد علی اور دیگر شامل تھے ۔ ملاقات میں جماعت اسلامی کراچی کے نائب امرا ڈاکٹر اسامہ رضی ، راجا عارف سلطان ، مسلم پرویز اور سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان موجود تھے ۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کنور نوید جمیل نے کہا کہ ہم نے آل پارٹیز کانفرنس میں انہیں مدعو کیا ہے ہم سمجھتے ہیں حکومت سندھ جو بل لائی ہے اس پر جو ہمارا نقطہ نظر ہے وہی تقریباََجماعت اسلامی کا بھی ہے تو اس لیے ہم اپنی اے پی سی کا دعوت نامہ لے کر آئے ہیں ہمیں بڑی خوشی ہوگی اگر یہ اس میں شرکت کریں ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جہاں تک اس بل کا تعلق ہے جو سندھ حکومت نے پیش کیا اور فوری طور پرپاس بھی کرلیا اور اس کمیٹی کے بھی سپرد نہیں کیا جس کے بارے میں انڈراسٹینڈنگ کچھ دن پہلے ہی بنی تھی کہ تمام جماعتیں مل کر غور خوض کرلیں اور تبادلہ خیال کریں ،سندھ حکومت نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بالکل جمہوریت کے خلاف ہے ،ہمیں تو 2013ء کے بل پر بھی شدیداعتراضات تھے ہم یہ سمجھتے ہیںکراچی کے لیے جو نظام ہونا چاہیے وہ بااختیار شہری حکومت کا ہونا چاہیے اور جب ناصر حسین شاہ نے ہم سے تجاویز مانگیں تو جماعت اسلامی نے اس پر اپنا موقف پیش کیا اور ان کو اپنی ساری تجاویز دیں جس میں بالکل واضح طور پر یہ چیز موجود تھی کہ کراچی کو میگا سٹی گورنمنٹ ہونا چاہیے ،میئر کا براہ راست الیکشن ہونا چاہیے یونین کونسلز اور ٹائون کا نظام ہونا چاہیے اور جتنے شعبے صوبائی حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے ہیں وہ سارے اختیارات کراچی کو ایک میگا سٹی کا درجہ دیتے ہوئے واپس دینا چاہیے لیکن ایسا کرنے کے بجائے انہوں نے جو رہے سہے اختیارات تھے وہ بھی چھین لیے ،پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت تمام اختیارات اپنے قبضے میں کرنا چاہتی ہے، کراچی جو سندھ کو اور پاکستان کو ریوینو دیتا ہے اور چلاتا ہے اسے اس کا جائز اور قانونی حق نہیں دیا جاتا ،ہم اس رویے اور طرز عمل کو مسترد کرتے ہیںجماعت اسلامی اور ایم کیوایم کا اس نئے ترمیمی بل کو مسترد کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ آل پارٹیز کانفرنس کے سلسلے میں ہم مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ پی ٹی آئی اور پی ایس پی والے بھی ہمارے ہاں تشریف لائے تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ترمیمی بل کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں ادا کر رہے ہیں ، اس بل کے خلاف اور کراچی کے حق کے لیے ہم نے دھرنے دیے، احتجاج کیا،12دسمبر کو ’’کراچی بچائو مارچ ‘‘ کر رہے ہیں ،ایم کیو ایم نے جو موقف پیش کیا وہی ہمارا موقف ہے یہ بھی عوام کو متحرک کررہے ہیںاور ہم بھی عوام کو متحرک کریں گے ،ساری جماعتیں اس بل کو مسترد کررہی ہیں پھربھی پیپلز پارٹی اپنی وڈیرہ شاہی مسلط کررہی ہے ۔ایم کیو ایم وفاقی حکومت کا حصہ ہے اور وفاقی حکومت کے حوالے سے بھی ہم نے جو کراچی چارٹر بنایا ہوا ہے اس میں تو بہت سارے معاملات اور مسائل ایسے ہیں جس میں ہمیں وفاقی حکومت سے بھی شکایات ہیں اور مطالبات ہیں ، مثلاً غلط مردم شماری،،کوٹا سسٹم میںغیر معینہ مدت کی توسیع ،کے الیکٹرک کے مسائل اور گرین لائن بس کا معاملہ ہے یہ سب وفاق کی ذمے داری ہے اور ایم کیو ایم وفاق کا حصہ ہے ۔اس لیے ان مسائل کے حل کی ذمے داری ان پر بھی عاید ہوتی ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سیاسی مسائل پر ایشوز پر ہی بات آگے بڑھتی ہے ماضی میں جوکچھ ہوا ہے اور ایم کیو ایم کا جو ٹریک ریکارڈ رہا وہ سب کے سامنے رہا وہ بہت تلخ ہے ماضی میں ہمارے کارکنان شہید ہوئے یہ بہت سیاہ حوالہ ہے اب ہم کہتے ہیں کہ اس پورے عنصر کو ختم ہونا چاہیے۔ پہلے بھی ہم ایشوز پر بات کرتے تھے آج بھی ہم ایشوز پر بات کرتے ہیںسیاسی رائے میں جو اختلاف ہے وہ تو ٹاک شوز میں بھی ہوگا سڑک پر بھی ہوگا ۔البتہ بل والے معاملے پر اتفاق ہے باقی ہم مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے ۔