مشرق وسطیٰ کا پیرس ’’لبنان‘‘ تباہی کے دہانے پر

287

یہ 1971ء کا سال اور بیروت کا سنہری دور ہے۔ ایک نوجوان پاکستانی طالب علم خوشی سے نہال تھا کیونکہ وہ معروف امریکی یونیورسٹی آف بیروت میں پڑھنے کے لیے ابھی ابھی بیروت پہنچا تھا۔ آخر وہ خوش کیوں نہ ہوتا؟ اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کو شہرت اور دولت سے بھرپور زندگی کی چابی سمجھا جاتا تھا۔ 50 سال بعد بیروت میں پارلیمان کی کارروائی اندھیرے میں جاری ہے کیونکہ بجلی کے پیداواری اداروں کے پاس ایندھن ختم ہوگیا ہے۔ کھانے کی دکانوں کے باہر لوگوں کی طویل قطاریں لگی ہیں لیکن وہاں کھانا دستیاب نہیں ہے۔ اسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں یہاں تک کہ درد میں آرام دینے کی عام دوائیں تک ختم ہوچکی تھیں۔
یہ اب بیروت میں معمول بن چکا ہے۔ مہنگی رہائشی عمارتیں اب خالی رہنے لگی ہیں کیونکہ وہاں کے رہائشی یا تو ملک سے باہر چلے گئے ہیں یا انہیں گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ شہر کے پُررونق چوراہے اب اندھیرے میں ڈوبے رہتے ہیں اور کبھی کبھار کوئی سایہ کچرے کے ڈھیر میں بچا ہوا کھانا تلاش کرتے ہوئے نظر آجاتا ہے۔ تو آخر یہ عظیم شہر اس صورتحال کا شکار کیسے ہوا؟
1975ء میں شروع ہونے والی لبنان کی خانہ جنگی سے قبل بیروت کو یہاں کے تعلیم یافتہ افراد اور متنوع ثقافت کی وجہ سے ’مشرق وسطیٰ کا پیرس‘ کہا جاتا تھا۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں یونیورسٹی کے ایک جدید اور متنوع نظام کی وجہ سے پالیسی سازوں کو انسانی سرمائے کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد ملی۔ اس وجہ سے خدمات کے شعبے اور خاص طور پر مالی ثالثی کے شعبے میں لبنان نے ایک خاص مقام حاصل کرلیا۔ خانہ جنگی سے قبل کے 10 سالوں میں لبنان کی معیشت میں سالانہ 6 فیصد کا اضافہ ہورہا تھا جبکہ مہنگائی 5 فیصد پر برقرار رہی۔ ان معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ اور فسکل سرپلس پیدا ہوا۔ اس عرصے میں جو سیاح بیروت گھومنے کے بعد ایتھنز کا دورہ کرتے تھے وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے کہ بیروت کی چمک دمک کے آگے یونان کا دارالحکومت ماند پڑجاتا ہے۔
تاہم جس بات کا ڈر تھا وہ ہو ہی گیا۔ موجودہ معاشی بحران اس قدر شدید ہے کہ عالمی بینک نے اسے 1800ء کے بعد سے سخت ترین معاشی بحران قرار دیا ہے۔ 2019ء کے بعد سے لبنانی پونڈ کی قدر 90 فیصد کم ہوچکی ہے۔ کچھ تخمینوں کے مطابق اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں 550 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور اس کی وجہ سے ماضی کے اوسط آمدن والے ملک میں تین چوتھائی لوگ غربت کا شکار ہوچکے ہیں۔
یہاں بجلی کی فراہمی کئی کئی دن تک معطل رہتی ہے جبکہ درآمد شدہ اشیائے خور و نوش، ادویات اور یہاں تک کہ پیٹرول بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگیا ہے۔ 2020ء میں لبنان کی معیشت 20 فیصد تک سکڑ گئی اور تخمینوں کے مطابق سال 2021ء میں یہ مزید 10 سے 15 فیصد سکڑے گی۔ یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔
بیروت کے بدلتے حالات کی وضاحت لبنان کے سیاسی نظام کی ناکامی اور بڑھتی ہوئی کرپشن سے کی جاسکتی ہے۔ مختلف مذہبی فرقوں اور بعض اوقات غیر ملکی قوتوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کے مابین جھگڑوں نے ملکی معاملات کو ٹھپ کردیا۔ 2014ء سے 2018ء کے درمیان تو لبنان میں کوئی صدر بھی نہیں تھا۔ یورپی پارلیمان نے عدم استحکام میں ملوث سیاسی شخصیات پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی دی تو لبنان کی سیاسی جماعتوں نے ایک سال تک برقرار رہنے والے سیاسی ڈیڈ لاک کے بعد ستمبر کے مہینے میں بالآخر حکومت بنالی۔ کچھ سال پہلے ہی لبنان کے دیوالیہ ہونے کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوچکے تھے لیکن اس معاشی بحران سے بچنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی سازشوں کے پیچھے دراصل کک بیکس اور ناجائز رقم کے حصول کے لیے ہونے والے جھگڑوں کا ہاتھ ہے۔ رانیہ ابو زیدی نے حال ہی میں نیویارک ٹائمز میں اس بات کی نشاندہی کی کہ لبنان میں حکومتی عہدے میرٹ کی بنیاد پر نہیں دیے جاتے۔ ان کے مطابق یہ عہدے ’محصصة‘ کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری عہدے من پسند فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہی دیے جاتے ہیں۔
لبنان میں اعلیٰ ترین ادارے بھی کرپشن سے پاک نہیں ہیں۔ لبنان کے مرکزی بینک کے گورنر کو بڑی حد تک موجودہ معاشی بحران کا ذمے دار تصور کیا جاتا ہے۔ وہ 2019ء میں معاشی بحران کے آغاز سے کچھ ہی پہلے ’ناجائز ذرائع‘ سے کمائی گئی دولت کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے الزام میں زیرِ تفتیش ہیں۔ 2020ء میں بیروت میں ہونے والے خوفناک دھماکے میں 216 افراد ہلاک ہوگئے تھے تاہم اس دھماکے کی تحقیقات میں بہت زیادہ پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ یوں اس بارے میں شبہات جنم لے رہے ہیں کہ شاید ملک کی عدلیہ بھی اب شفاف انداز میں کام نہیں کررہی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لبنان کا سیاستدان طبقہ مسلسل لوٹ مار اور طاقت کے حصول میں مشغول رہا اور کبھی اپنے قلیل مدتی ایجنڈوں سے بڑھ کر نہیں سوچ سکا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی اور معاشی پالیسی کے ٹھہراؤ نے عرب دنیا اور اسلامی دنیا کے لیے امید کی کرن رہنے والے معاشرے اور معیشت کو تباہ و برباد کردیا۔
پاکستانی پالیسی ساز شدید معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس پس منظر میں لبنان کی اس افسوسناک کہانی میں کئی سبق موجود ہیں۔ شاید ان میں سے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ سیاسی رسہ کشی، پالیسیوں میں آنے والا ڈیڈ لاک اور رشوت کامیاب ترین اقوام کو بھی ختم کردیتی ہے۔