محکمہ محنت ملازمت پیشہ خواتین کے حقوق کا تحفظ کرے،رابعہ چوہان

105

ویمن ورکرز الائنس کراچی کی رہنما رابعہ چوہان کی قیادت میں 30 نومبر کو کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر رابعہ چوہان نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ محنت سندھ فیکٹریز ایکٹ 1934 اور شاپ اینڈ اسٹیبلشمنٹ آرڈی نینس 1969 پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے ضلع کے اندر کام کرنے والی تمام رسمی اور غیر رسمی اداروں کو لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹرڈ کرکے اور اس کا ریکارڈ بنایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کام کرنے کی جگہوں پر خواتین کی مساوی اجرت، ملازمت کا تحفظ، سوشل سیکورٹی، پیشہ ورانہ صحت و سلامتی اور صنفی طور پر حساس ماحول کی فراہمی کا باقاعدگی سے جائزہ لے کر ان قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ کام کرنے کی جگہوں پر تمام اداروں میں جنسی ہراسانی کی شکایات کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں قائم کی جائیں اور قانون کے تحت ضابطہ اخلاق کو نمایاں مقامات پر آویزاں کرنا بھی ضروری ہے۔ زیادہ تر اداروں کی عمارتیں مرد حضرات کے استعمال کے مدنظر بنائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے بیشتر دفاتر یا فیکٹریوں میں خواتین ورکرز کے لیے علیحدہ بیت الخلاء کی سہولت موجود نہیں ہوتی، اگر بیت الخلاء موجود ہوں بھی تو کام کی جگہ سے دور یا غیر محفوظ مقامات پر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے خواتین کو صحت اور کام کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محکمہ محنت ضلع کے اندر کام کرنے والے تمام اداروں کا باقاعدگی سے انسپکشن کرے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی بشمول نوٹسز اور جرمانے عائد کرے۔ لیبر انسپکشن کے عمل کو مربوط، فعال اور جامع بنانے کے لیے ویمن لیبر انسپکٹرز کی تقرری کو عمل میں لایا جائے۔ لیبر انسپکشن کے تحت اٹھائے گئے تمام اقدامات کا ریکارڈ رکھا جائے۔ محکمہ محنت اپنی ویب سائٹ بنائے اور تمام معلومات کو اس ویب سائٹ پر عام شہریوں کے لیے دستیاب کرے۔ انہوں نے
تمام ممبرز قومی اور صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ لیبر قوانین پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنانے اور لیبر انسپکشن کے عمل کو مربوط اور فعال بنانے کے حوالے سے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو مکمل پابند بنایا جائے تا کہ خواتین کو کام کرنے کی جگہوں پر مطلوبہ سہولیات کی فراہمی یقینی ہوسکے۔ لیبر قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور لیبر انسپکشن کے عمل کو مربوط و فعال بنانے اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات لانے کے لیے سیشن کے دوران قومی اور متعلقہ صوبائی اسمبلی میں باقاعدہ قرار داد پیش کریں۔ اور ساتھ ساتھ لیبر پالیسی کے نظام کو مکمل جانچنے اور اس پر اب تک عملدرآمد کی صورت حال کو جاننے کے لیے سیشن کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر سوالات اٹھائیں۔ اس موقع پر تخلیق فائونڈیشن کے رہنما محمد یعقوب و ضیاء الحق اور WERO کے رہنما میر ذوالفقار علی بھی موجود تھے۔