لیڈی ہیلتھ ورکرزکو کام کے دوران درپیش مسائل حل کیے جائیں‘ حلیمہ لغاری

156

آل سندھ لیڈی ہیلتھ وکرز اینڈ ایمپلائز یونین کی رہنما حلیمہ ذوالقرنین لغاری نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکر کا شعبہ محکمہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند سمجھا جاتا ہے ۔ وسیع دائرہ کار ہونے کے سبب اُن کا کام محنت طلب ہوتا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے کاموں میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق امور ، زچہ وبچہ کی صحت کی نگہداشت اوربیماریوں کے خلاف مدافعتی اقدامات ، وبائی امراض سے متعلق احتیاطی تدابیر اور آگاہی فراہم کرنا سرِ فہرست ہے ۔ اس کے علاوہ پولیو اور ویکسنیشن میں بھی اپنا کردار ادا کررہی ہیں ۔پاکستان میں کوویڈ ۔19کی وباء کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز نے فرنٹ لائن ورکرز کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا۔فیلڈ میں کام کرنے کے سبب لیڈی ہیلتھ ورکر ز کو شدت ، ہراسگی ، گھریلو تشدد ، جنسی ہراسگی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کام کے دوران ، سڑک پر ، ٹرانسپورٹ میں ہراسگی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرتی ہیں ۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کبھی گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں اور کبھی تیزاب گردی کا دیگر موقعوں پر ان کی کردار کشی کر کے ان کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے ۔ اور کئی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو قتل کردیا گیا ہے۔ وقت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات لیڈی ہیلتھ ورکر گھر میں دیر سے جاتی ہیں تاخیر سے گھر آنے کی صورت میں اُن کے شوہر اُن پر تشدد کرتے ہیں اور بعض اوقات طلاق کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی میں جاتی ہیں تو راستے میں مرد حضرات اُن پر آوازیں کستے ہیں ، بُری نگاہ سے دیکھتے ہیںاورکُتے بھی اُن پر بھونکتے ہیں ۔ کام کے دوران کئی لیڈی ہیلتھ ورکرز کُتے کے کاٹنے کا شکار بھی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ جب وہ کمیونٹی میں مختلف گھروں کے وزٹ کے لیے جاتی ہیں تو اُس موقع پر گھروں میں موجود مردوں کا رویہ انتہائی نامناسب ہوتا ہے ۔ اور اکثر لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں ۔ مرد افسران اور ساتھی ملازمین اُن کو جنسی ہراسگی کا نشانہ
بناتے ہیں اکثر اوقات اُنکو میٹنگ کے لیے بلاتے ہیں جہاں کوئی خاتون موجود نہیں ہوتی اور وہاں اُن کو ہراساں کیا جاتا ہے ۔ اور منع کرنے کی صورت میں نوکری سے نکالے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ہمیں معاشرے میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے ہمارے ملک میں کام کی جگہ پر تشدد او ر ہراسگی کے خاتمے کے لیے مارچ 2010میں کام کی جگہ پر خواتین کو ہرساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ پاس ہوا۔ بدقسمتی سے اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ILOکے کنونشن C190اور تجاویز R206کی جلدازجلد توثیق کرے اور ساتھ ساتھ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ کو مزید مضبوط کر کے اس کی عملدرآمد کرنے پر توجہ دے ۔