مزدور مسائل کے حل کیلئے حکمران اپنے وعدوں پر عمل کریں،شمس سواتی

136

30 نومبر کو اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے، بد ترین مہنگائی، بے روزگاری، ٹھیکیداری نظام نجکاری کے خلاف سرکاری ملازمین کی تنظیموں نیشنل لیبر فیڈریشن کے اشتراک سے دھرنا دیا۔ دھرنے سے نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی کے علاوہ آئیسکو لیبر یونٹی کے صدر عاشق خان ،فگیگا کے کوآرڈینیٹر رحمان باجوہ,ساجن پہنور، مبارک شاہ، ریلوے پریم یونین، محنت کش یونین اور دیگر نے خطاب کیا۔ حکومت سے مذاکرات ہوئے، وفاقی وزیر علی محمد خان نے یقین دلایا کہ وہ دس روز کے اندر معائدے کی ان شقوں پر عمل درآمد کی سمری منظور کرا لی جائے گی جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ ملازمین کی کمیٹی نے اعلان کیا کہ آئندہ دھرنا 10 فروری کو ہو گا۔ اس وقت تک حکومت کو
مہلت ہے کہ اس پر عمل درآمد کرے۔ اس موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ حکمرانوں نے وعدہ خلافی اور معائدے توڑنے، جھوٹ بولنے کا عالمی ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ وعدہ خلافی اور جھوٹ کو یو ٹرن قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال 10 فروری کو کیے گئے معائدے پر عمل درآمد نہ ہونا اس کا ثبوت ہے۔
ہمارا مطالبہ صرف اس معائدے پر عمل درآمد کا ہی نہیں ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ آئی ایم
ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی اور سودی نظام کو خیر باد کہا جائے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے احکامات سے مہنگائی، بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا جو ناقابل برداشت ہے۔ عالمی ایجنڈے پر نجکاری کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ قومی اداروں کی نجکاری پاکستان کو محض عالمی مارکیٹ بنانے کا ایجنڈا ہے۔ حکمران لیبر قوانین پر عملدرآمد کروائیں۔ سرکاری ملازمین کو بھی ٹریڈ یونین کا حق دیا جائے اور پرائیوٹ سیکٹر میں مالکان جس طرح ٹریڈ یونین کا قتل عام کر رہے ہیں اس میں انہیں محکمہ محنت کے اداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ سماجی بہبود کے قوانین اور انجمن سازی کا ساڑھے سات کروڑ مزدوروں میں سے صرف چند لاکھ کو حق دینا اس کا ثبوت ہے۔ٹھیکیداری نظام کو ختم کیا جائے۔ کم از کم تنخواہ کے قوانین پر عمل درآمد کیا جائے، کم از کم تنخواہ پچاس ہزار روپے مقرر کی جائے۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ این ایل ایف تمام مزدوروں، ملازمین اور دہاڑی دار مزدوروں کو متحد کر کے مزدوروں کے حقوق اور خوشحالی کے لیے بدترین سرمایہ داری نظام سے نجات دلانے اور نظام مصطفی کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کرے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرمایہ داری، افسر شاہی، جاگیرداری کے اس ٹرائیکا پر مشتمل اس مافیا کو رخصت کرے اور اسلامی نظام کے لیے جدوجہد ہی مزدوروں کے مسائل کا حل ہے۔