عدم اعتماد

233

عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان کا ارشاد گرامی ہے کہ عدالت عظمیٰ فیصلے کرنے میں آزاد ہے کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ہمیں انصاف کی فراہمی سے روکے اور اپنی مرضی کے فیصلے سنانے پر مجبور کرے، عدلیہ کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیتی ہر فیصلہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے عدلیہ کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا اور یہی کردار میرے ججوں کا ہے، سب کی رائے کا احترم کیا جاتا ہے یہی عدالتی نظام اور جمہوریت کا حسن ہے، جمہوریت کا حسن ہو یا عدلیہ کا حسین چہرہ عوام دونوں سے اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ انکا شمار جمہوریت اور عدلیہ کے متاثرین میں ہونے لگا ہے۔
علی احمد کرد کے حقیقت افزوں بیان پر چیف صاحب نے کہا کہ غلط فہمیاں نہ پھیلائیں، اداروں کو بدنام نہ کریں، پاکستان میں کسی بالا دست شخصیت کی نہیں قانون کی حکمرانی ہے، ہم جس طرح کام کررہے ہیں کرتے رہیں گے، ہماری ذمے داری ہے کہ ہم عوام میں اپنی ساکھ بنائے رکھیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ جمہوریت بھیک میں نہیں ملتی جمہوریت عوام کا حق ہے اور حق بھیک میں نہیں ملتا، مگر عام مشاہدہ اور مطالعہ یہ کہتا ہے کہ وطن عزیزمیں اختیار اور اقتدار بھیک میں ملتا ہے، جو چیز بھیک میں ملتی ہے اس کی قدر کون کرتا ہے یہی حال وطن عزیز کے حکمرانوں کا ہے، وہ جانتے ہیں کہ اقتدار عوام کے ووٹوں سے نہیں ملتا اس کے حصول کے لیے جھولی پھیلا پڑتی ہے کشکول کو مضبوطی سے تھامنا پڑتا ہے اور ووٹ کی عزت کا تقاضا یہی ہے کہ بھیک دینے والوں کے سامنے سر نہ اٹھایا جائے۔
علی احمد کرد کے ارشاد کے مطابق ملک میں جوڈیشری کہیں دکھائی نہیں دیتی، اگر عدلیہ موجود ہے تو اس کا کام سائلین کو دھتکارنا، پیشی در پیشی کا عذاب نازل کر کے انصاف کے طلبگاروں کو اذیت دینا ہے وطن عزیز کی عدلیہ دنیا میں سب سے نچلے نمبروں پر ہے، اگر یہی عدلیہ ہے تو میرا حق ہے کہ قوم کو اس سے آگاہ کروں۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں عدلیہ کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے وہ عوام کے دل کی آواز ہے کاش یہ آواز عزت مآب چیف جسٹس گلزار احمد کے کانوں تک رسائی حاصل کر سکتی، ان کی رائے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ موصوف عدالتی نظام اور جج صاحبان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، ورنہ کبھی یہ نہ کہتے کہ وہ اور ان کے جج صاحبان قانون کے مطابق فیصلے سناتے ہیں، بڑی ذمے داری اور دلجمعی سے اپنا فرض نبھاتے ہیں، اب یہ الگ موضوع ہے کہ عوام کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ جج صاحبان پورا وقت بھی عدلیہ کو نہیں دیتے حالانکہ وہ تنخواہ پوری لیتے ہیں سہولتیں اور دیگر مراعات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، ان کی مرضی کا پروٹوکول نہ ملے تو برہم ہو جاتے ہیں، ان کا کوئی دوست یا رشتہ دار آجائے تو انصاف کے طلبگاروں کے منہ پر لیفٹ اوور کا ہتھوڑا برسا کر اپنے چیمبر میں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہیں، سائلین جائیں بھاڑ میں، انصاف جائے جہنم میں، یہی وجہ ہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2021 عدم اعتماد کی تحریک بن گئی ہے، عدلیہ کی کارکردگی پر جو الزام جسٹس رانا شمیم نے لگایا ہے وہی الزام جسٹس شوکت صدیقی نے بھی لگایا تھا۔ مگر عدالت عظمیٰ کو یہ توفیق نہ ہو سکی کہ وہ حقائق سے آگاہ ہونے کے لیے کوئی موثر قابل ذکر اقدام کرتی۔
وکیل علی احمد کرد نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مقتدر شخصیت نے 22کروڑ عوام اور عدلیہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے، اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ اس شخصیت کو اُتاریں، اگر اسے نہ اُتارا تو عوام کو اوپر جانا پڑے گا، عوام کو اوپر پہنچانے کی ذمے داری تو وزیر اعظم عمران خان نے پہلے ہی سنبھالی ہوئی ہے اب وہ بڑی جانفشانی اور دلیری سے اسے نبھا رہے ہیں شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عدلیہ نے بھی ان کی معاونت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، چیف صاحب کا فرمان ہے کہ عدلیہ کی نظر میں بااختیار یا بے اختیار ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا قانون اور آئین کی نظر میں سب برابر ہیں اور عدلیہ اس معاملے میں کوئی رعایت نہیں کرتی سب کے فیصلے قانون اور آئین کے مطابق کیے جاتے ہیں، ہم یہ کہنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ عدلیہ کو یرغمالی کہنے کی بات عام آدمی کے منہ سے نکلتی تو عدلیہ اس کی وہ درگت بناتی کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہتا مگر یہ بات ان کی برادری کے ایک شخص نے کہی ہے اس لیے عدلیہ کے کانوں پر دبیز پردے ڈال دیے گئے ہیں، اور یہ حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ برادری کا چلن عدالتوں میں بھی موجود ہے، اصولی طور پر تو علی احمد کرد کے بیان کی تصدیق ہونا چاہیے تاکہ عوام بھی اس شخصیت سے واقف ہو سکیں جس نے نہ صرف عوام کو بلکہ عدلیہ کو بھی یرغمال بنا رکھا ہے، سابق چیف جسٹس بلتستان رانا شمیم نے جو کچھ کہا اس کی تحقیق ہونا قومی فریضہ ہے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی حالانکہ یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ کاٹھ کباڑ کا سامان تو بن جاتے ہیں مگر عبرت کا سامان بننا پسند نہیں کرتے۔ المیہ یہ ہے کہ جسٹس صاحبان کے بجائے، وزیر اعظم عمران خان ان کے وزیر اور مشیر عدالت عظمیٰ کا دفاع کررہے ہیں، گویا حکومت نے عدالت عظمیٰ کو عظمیٰ بی بی سمجھ رکھا ہے اور اس کی خوشنودی کو حکومتی ذمے داری بنا دیا ہے۔ لیکن اس کارکردگی سے حکومت کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں وزیر اعظم عمران خان کا کتنا حصہ ہے، اور ان کی معاونت کے مرتکب کون کون ہیں، بار کونسل کے صدر نے چیف جسٹس صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ سوموٹو مقدمات میں بھی اپیل کا حق دیا جائے، اکثر مبصرین نے اس مطالبہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے مگر ہمارے لیے یہ مطالبہ باعث حیرت ہرگز نہیں ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ اپیل در اپیل کا ابلیسی چکر ہی تو خدا کے نائبین کو شیطان کی جانشینی پر اکساتا ہے، یہ کیسی شرمناک بات ہے کہ جج اور جسٹس صاحبان ایسے مقدمات کی اپیلوں کی سماعت کررہے ہیں جو قابل سماعت ہی نہیں۔