پورا ملک حقوق مانگ رہا ہے

184

یہ عجیب بات ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ حکومت ہے۔ انتخابات ہوتے ہیں حکومتیں بدلتی ہیں لیکن پورے ملک کا ہر طبقہ ایک ہی آواز اٹھا رہا ہے ہمارا حق دو… جماعت اسلامی نے حق دو کراچی کو کے عنوان سے تحریک جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ بااختیار شہری حکومت ہی مسائل کا حل ہے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی ہی نے حق دو گوادر کو، کے عنوان سے تحریک چلا رکھی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی 12 دسمبر کو کراچی بچائو مارچ کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ گوادر حقوق ریلی 10 دسمبر کو ہو رہی ہے اور عوامی سطح پر بھی دونوں کو پذیرائی مل رہی ہے۔ جماعت اسلامی پہلے بھی عوام کے لیے میدان میں ہے اور ہمیشہ یہ کام کرتی ہے لیکن ملک کے حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ عوام حقوق سے محروم کیوں ہیں۔ یہ محض سیاسی نعرہ نہیں ہے۔ سیاسی نعرہ تو بھٹو صاحب نے لگایا تھا وہ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے پر سیاست کرکے ملک کے حکمران بن گئے۔ نواز شریف ملک کو ترقی دینے اور خوشحالی کے نام پر حکمران بنے۔ اور بے نظیر بھٹو بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ روشن خیالی لاتی رہیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ عوام تینوں چیزوں سے محروم ہو گئے۔ یہ کارنامہ صرف پی ٹی آئی کا تنہا کارنامہ نہیں ہے یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ کلرک، مزدور، ڈاکٹر، اساتذہ، طلبہ، طبی عملہ، سرکاری افسران اب تو سفارتی عملہ بھی حقوق مانگ رہا ہے۔ حکمرانوں کے پاس وضاحت کے سوا کچھ نہیں۔ واضح طور پر ملک میں دو طبقات وجود میں آتے جا رہے ہیں ایک اوپر والا اور ایک نیچے والا۔ اسے امیر غریب کی تفریق بھی کہا جاتا ہے متوسط طبقہ ختم ہو چکا، لیکن جو تقسیم ہو رہی ہے اس کے نہایت خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی تو لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے میں اس وقت سب سے آگے ہے لیکن میڈیا سے اس طرح سامنے نہیں لاتا جس طرح مصنوعی قیادتوں کو لاتا ہے۔ تاہم اب لوگوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ کون ان کی اصل آواز ہے۔