سیالکوٹ واقعہ… افسوسناک اور شرمناک

757

پاکستان میں تاریخی طور پر ہر کچھ عرصے بعد ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے، یا ایک منظم منصوبے اور ایجنڈے کے تحت کیا اور کروایا جاتا ہے جس سے اسلام اور پاکستان کو نشانے پر لیا جاسکے۔ ایک بار پھر اسی طرح کا افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ سیالکوٹ کی ایک نجی فیکٹری میں ہوا، جس میں سری لنکن منیجر کو ملازمین نے توہینِ رسالت کے الزام میں تشدد کرکے قتل کرنے کے بعد لاش نذرِ آتش کردی۔ مشتعل افراد کا دعویٰ ہے کہ مقتول نے مذہبی جذبات مجروح کیے تھے۔ مشتعل ملازمین نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی، وزیرآباد روڈ کو بلاک کرکے منیجر کی لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگا دی۔ ہماری پولیس معمول کے مطابق اْس وقت پہنچی جب مشتعل ہجوم اپنا کام مکمل کرچکا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پولیس موقع پر پہنچ کر ہجوم کو قابو میں کرتی، لیکن جب پہنچی بھی تو خاموش تماشائی بنی رہی اور ہجوم کی طرف دیکھتی رہی، جب کہ پورے پاکستان میں ہم دیکھتے ہیںکہ نابینا، معذور افراد اور اساتذہ کا احتجاج ہو تو پولیس بروقت موجود ہوتی ہے اور لوگوںکو بدترین تشدد کا نشانہ بھی بناتی ہے، لیکن اس طرح کے واقعات میں منظم مشتعل سازشی ہجوم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرنے یا کارروائی کرنے میں اتنی دیر لگاتی ہے کہ حادثہ اور سانحہ ہوچکا ہوتا ہے اور پھر لکیر پیٹتی ہے کہ اس واقعے کے بعد دہشت گردی میں ملوث 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے جس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ سری لنکا نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام سیالکوٹ واقعے کی موثر تحقیقات کریں اور انصاف کو یقینی بنائیں۔ اس واقعے میں ایک اور قابلِ نوٹ بات یہ ہے کہ نشانہ بننے والے شخص کا تعلق سری لنکا سے تھا اور اس سے قبل 2009ء میں بھی سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملہ ہوا تھا جو ’را‘ نے کرایا تھا۔ سری لنکن حکومت کے خلاف 1970ء کی دہائی کے اوآخر میں شروع ہونے والی تامل ٹائیگرزکی دہشت گردی میں بھی ’را‘ کاکردار اہم رہا ہے، اور سری لنکن فوج کے ہاتھوں2009ء میں تامل ٹائیگرز کی شکست میں پاکستان کا اہم کردار تھا۔ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ بھارت اور ’را‘ کی ضرورت اور خواہش ہے کہ پاکستان کو خطرناک ریاست کے طور پر پیش کیا جائے اور دنیا بھر میں اسے بدنام کیا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے میں ہجوم نے ایک فرد کو نشانہ بنایا۔ چاہے کسی کھیل اور سازش کے تحت نشانہ بنایا ہو لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ سماجی بے حسی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہجوم میں سے کسی نے مشتعل افراد کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ لوگ تشدد کی وڈیو بناتے اور سیلفیاں لیتے رہے، کچھ افراد لاش پر بھی ڈنڈے برساتے رہے، باقی ہجوم خاموش تماشائی بنارہا۔ کوئی بھی ان لوگوںکو تشدد اور لاش کو جلانے سے روکنے والا نہیں تھا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیںہے، ماضی میں سیالکوٹ میں ہی ہجوم کے ہاتھوں 2 بھائیوں کا قتل، مردان یونیورسٹی میں مشال خان کا قتل، کراچی میںنوجوان ریحان کا قتل جسے چوری کے الزام میں ہجوم نے تشدد کرکے مار دیا تھا۔ اسی طرح 2015ء میں یوحنا آباد میں گرجا گھروں پر خودکش حملوں کے بعد دہشت گردوں کے ساتھی ہونے کے شبہ میں 2 معصوم شہریوں بابر نعمان اور محمد نعیم کو تشدد کرکے جلادیا گیا تھا۔ محمد نعیم شیشے کا کام کرتا تھا اور یوحنا آباد میں شیشے لگانے گیا تھا۔
سیالکوٹ کی نجی فیکٹری کے واقعے کی پوری قوم نے مذمت کی ہے۔ مذہبی اور سیاسی قیادت کا بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات دینِ اسلام کی روح اور تعلیمات کے خلاف ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اس کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی قابلِ افسوس اور اسلام و شرفِ انسانیت کی توہین ہے۔ سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کا بے دردی سے قتل پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔ ایسے واقعات سے اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کو مزید زہر اگلنے کا موقع ملے گا۔ سیالکوٹ واقعے کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے مجرموں کو گرفتار کیا جائے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بھی واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو تحریک لبیک پاکستان سے منسوب کرنا افسوس ناک ہے، واقعے کا پس منظر اور سازش سمیت تمام پہلو مدِنظر رکھ کر غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائے، واقعے میں ملوث کرداروں کو گرفتار کرکے سامنے لایا جائے، ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی تو کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی جرأت نہیں ہوگی، ملک کسی خون خرابے اور فساد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ معروف عالمِ دین مولانا طارق جمیل نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناموسِ رسالت کی آڑ میں غیر ملکی کو زندہ جلادینے کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے، محض الزام کی بنیاد پر قانون کو ہاتھ میں لینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، اسلام میں تشدد اور شدت پسندی کی کوئی جگہ نہیں، علمائے کرام انتہا پسندی کو روکنے میں مثبت کردار ادا کریں۔
وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عمران خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیالکوٹ فیکٹری پر حملہ اور سری لنکن منیجر کو زندہ جلانا پاکستان کے لیے شرمناک دن ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ میں خود اس کیس کی نگرانی کررہا ہوں، اس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاریاں جاری ہیں، تمام ذمے داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے، واقعے کے بعد وزیراعظم اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے کیے گئے فوری اقدام کو سراہتا ہوں، یہ واقعہ کسی بھی طرح سے مذہبی نہیں، اسلام ایسا مذہب ہے جس میں پْرتشدد رویّے کے بجائے امن اور انصاف کا پرچار کیا جاتا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کہا ہے کہ سیالکوٹ میں غیر ملکی منیجر کا بہیمانہ قتل انتہائی قابلِ مذمت اور شرمناک ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس گھنائونے جرم کے مرتکب افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے سول انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔
سماجی درندگی اور ہجوم کے ’’انصاف‘‘ کی وجہ یہ بھی ہے کہ پورا معاشرہ اپنی اصل سے دور جا چکا ہے۔ جب پانی کی سطح بڑھتی ہے تو معلوم نہیں ہوتا۔ یہ بتدریج آہستہ آہستہ بلند ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں پانی کی سطح بلند ہی نہیں ہوئی، بلکہ اس نے سیلاب اور طوفان کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ایک سیلابِ بلاخیز ہے درندگی کا، حیوانیت کا، تشددکا، جہالت کا… ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات انصاف کے تباہ حال نظام اور ایسے بدترین معاشرے کی نشان دہی کرتے ہیں جہاں جنگل کا قانون ہو اور ریاست کا کوئی وجود نہ ہو۔ یہ واقعہ ملک میں بدترین انارکی کا مظہر ہے۔ اسی طرح ملکی اور بین الاقوامی منظرنامے میں جہاں ایٹمی پاکستان اس وقت مغرب کے نشانے پر ہے اور وہ اسے کمزور اور بے بس کرنے کے لیے بھارت کے گٹھ جوڑ کے ساتھ کھیل،کھیل رہا ہے، سیالکوٹ واقعے کو بھی ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے نظرانداز نہیںکیا جاسکتا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ہولناک اور سفاکانہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش سانحات سے بچا جاسکے۔