مغرب کے غلبہ کی وجہ نظام تعلیم ، تحقیق اور جدید صنعتی ترقی ہے

331

کراچی ( رپورٹ \محمد علی فاروق) مغرب کے عالمی غلبے کا سب سے بڑا سبب ان کا دیا ہوا نظام تعلیم ہے،مغرب نے اپنے اپنی ترجیحات میںتحقیق ، ایجادات ، تدریس ، ٹیکنالونی اور صنعتی میدان کو اولین درجہ دیا، مغرب نے اپنے مذہبی اختلا فات پر قابو پاکر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد پید اہونے والے خلاء کو اپنی ذہانت اور محنت سے بھرا ، جبکہ مغرب کا روشن خیالی کا نظریہ بھی دوسری دنیا کے لوگوںنے اپنا لیا ،مغرب نے اپنے لیے ایک الگ نظام مرتب کیاجس میں ایمانداری اور عدالتی نظام کوبلا تفریق سختی سے رائج کیا گیا، اس کے مقابلے میں تیسری دنیا کے ممالک نے اس میدان میں کچھ قابل ذکر کامیابیاں حاصل نہیںکیں ،مسلمانوںکا زوال اور مغرب کا غلبہ قرآن وسنت سے دوری اور اپنی تعمیر وترقی کے لیے اپنے اندر فعالیت وصلاحیت پیدا نہ کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر معراج الہدی ، بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹرمونس احمر اور امیر غرباء اہلحدیث پنجاب علامہ زاہد ہاشمی الازہری نے جسارت سے خصوصی گفتگو میں کہی ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہاکہ مغرب کے عالمی غلبے کی بنیادی وجہ تو مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تحریر بناؤ اور بگاڑ میں پیش کر دی ہے انہوں نے بتایاہے کہ اللہ تعالی بناؤ کو پسند کرتا ہے اور بگاڑ کو پسند نہیں کرتااور اپنی زمین کا انتظام ان لوگوں کو دیتا ہے جو بگاڑ نے کے مقابلہ میں بنانے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک مالی کی مثال دے کر سیدمودودی یہ کہتے ہیں کہ کسی باغ کا مالک ایسے مالی کو نکال پھینکتا ہے جو اس کے باغ کی صحیح طرح دیکھ بھال نہ کر سکتا ہو وہ اپنے اس باغ کو اجڑتاکیسے دیکھ سکتا ہے، ایسے حکمرانوں کو جو اس کی زمین پر بہت زیادہ فساد پھیلانے لگتے ہیں ان کو ان کی حکمرانی سے بے دخل کر دیتا ہے۔ اسی لیے جہاں مسلمانوں کی حکمرانی ہو وہ اگر حکومت اللہ کی زمین پر اللہ کی قائم نہ کر سکے تو اللہ ایسے حکمرانوں کی جگہ دوسرے حکمران لے آتا ہے جو لوگوں سے بہتر ہیں جو پہلے حکومت کرتے رہے ہیں۔ اللہ رب العالمین نے بھی اس نظام کو چلا نے کی ذمہ داریاں مسلمانوں کے سپرد کی تھی جب وہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوگئے تو اس دنیا کے نظام کو چلا نے کے لیے دوسرے افراد نے یہ جگہ لے لی،مغرب کے عالمی غلبے کا بنیادی مسئلہ تو یہی ہے کہ جب تک امت مسلمہ اپنے فرائض ادا کر نے کے لیے تیار نہیںہوگی، فعالیت و صلاحیت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور ایمان، تقوی کے ساتھ برائیوں کے خلا ف نظام چلانے اور اس کو آگئے بڑھ کر سر براہی کرنے کے قابل نہیں بنے گی تو اس وقت تک مغرب ہی غالب رہے گا ، مغرب کے غلبے کا سب سے بڑا سبب ہی مسلمانوںکا قرآن وسنت سے دور ہوجا نا اور اپنی تعمیر وترقی کے لیے اپنے اندر فعالیت وصلاحیت پیدا نہ کرنا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ مغر ب کے عالمی غلبے کے بہت سے اسباب ہیںجن میں خاص پہلو مغرب کا معاشی ،سیاسی ، دفاعی ، فوجی ، ٹیکنالوجی ، کا اثرورسوخ 550سالوں پر بین الاقوامی سطح پر محیط ہے ، یورپ میں کس طرح سے نشاط ثانیہ کا عروج ہوا اس کے بعد جغرافیائی دریافتیں ہوئیں ، امریکا ،اسٹریلیا ، اور بھارت دریافت ہوئے،نو آبادیاتی عمل کو قائم کرنے کے سلسلے کا آغاز ہوا ،افریقا،ایشیا ء ، لاطینی امریکا ، شمالی امریکا سمیت امریکا دنیا کے علاقے میں چھانے لگا،جبکہ یہ بات بھی درست ہے کہ ان علاقوں میں بہت بڑے پیمانے پر استحصال بھی کیا گیا ، نشاط ثانیہ اور مغرب کی ایجادات کے ساتھ ایک روشن خیالی کا نظریہ بھی سامنے آیا جسے دوسری دنیاکے لوگوں نے اسے اپنا لیا ، مغرب نے صنعتی انقلا ب کے ساتھ تحقیقی عمل کو بھی فروغ دیا ،سلطنت عثمانیہ کو بھی انہوں نے ختم کر دیا،اس دور میں مسلمانو ں کے زوال کے نتیجے میں ایک خلاء پید اہوا جسے مغرب نے اپنی ذہانت اور محنت سے بھر نے کی کوشش کی ، مغرب نے اپنے اپنی ترجیحات میںتحقیق ، ایجادات ، تدریس ، ٹیکنالونی اور صنعتی میدان کو اولین درجہ دیا ،مغرب نے ان تمام تر پالیسیوں کے ساتھ اپنے اندر کے تضاداد ت یعنی خاص طور پر مذہبی اختلا فات پر قابو پایا ،مذہب اور سیاست کو علحدہ علیحدہ کیا گیا ، جرمنی ، اٹلی ، کو متحد کرنے کے لیے جنگیں لڑی گیں ، امریکا ، اسٹریلیا کے حصے میں بہت سے وسائل آئے ، انہوں نے یہ بات محسوس کر لی کہ اب ہمارے مدمقابل اب کوئی نہیںرہا ۔ پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ مغرب 1945سے قبل آپس میں ہی لڑتے مرتے رہتے تھے، پہلی جنگ عظیم دوسری جنگ عظیم سب جنگیںانہوںنے آپس میں ہی لڑیں اس کے بعد مغرب نے آپس کی لڑائی کو ختم کر کے اس پر قابو پالیا ،اس کے بعد مغرب میںایک خانہ جنگ ہوئی بوسنیا و ہرزیگووینا میں ہوئی مغرب کی کوشش یہ رہی کہ دنیا بھر میںغلبے کے لیے ضروری ہے مغرب میں امن وامان برقرار رہے،مغرب نے فوجی ، معاشی ،ٹیکنالوجی کے لحاظ سے مختلف ادارے بنائے گئے، اور مونیٹری فنڈ ، ورلڈ بینک ، ایشین ڈویلپمنٹ بینکنگ سسٹم کو مضوط کیا گیا مغرب نے اپنی محنت اور ذہانت سے اپنے لیے ایک الگ نظام مرتب کیاجس میں ایمانداری اور عدالتی نظام کوبلا تفریق سختی سے رائج کیا گیا ، اس کے مقابلے میں تیسری دنیا کے ممالک نے اس میدان میں کچھ قابل ذکر کامیابیاں حاصل نہیںکیں اور انہوں نے اپنی ہی تہذیب کو بھی مسخ کر دیا ، مغرب اب اسلامی قوت سے زیادہ خوف زدہ نہیںہے بلکہ وہ اب چین سے بہت بڑا خطرہ محسوس کرتا ہے ،چین اس وقت دنیا کا امیر ترین ملک بن چکا ہے، مغرب نے چین کے مقابلے میں اپنی تعلیمی ، تحقیقی ، ٹیکنالوجی ، معاشی ،سیاسی نظام کو درست رکھا تو پھر مغرب اپنا غلبہ آئندہ کئی دہائیوں تک قائم رکھ سکے گا ورنہ اس کی تہذیب وتمدن بھی زوال پذیر ہوجائے گا ۔ امیر غرباء اہلحدیث پنجاب علامہ زاہد ہاشمی الازہری نے کہا کہ میرے اپنے وطن پاکستان سمیت پوری دنیا میںانسانوں میں مغربی نظام تعلیم کے ذریعے جو تہذیبی تمدنی شعور اجاگر کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسلوںمیں بڑی تیزی سے مغربی رنگ پھیلتا دیکھا ئی دے رہا ہے ، ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ جب مغرب سے تعلیم حاصل کر کے آئے تو انہوںنے اپنے کلا م میںامت مسلمہ کو مغربی تہذیب کی فساد کاری کے حوالے سے توجہ دلا تے ہوئے کہا تھا کہ مغربی تہذیب ایک ایسا فریب ہے جسے دیکھ کر انسان بہت متاثر ہوتا ہے مگر جب اس تہذیب کو اپنا تا ہے تو پھر اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس سے بدترین تہذیب کو ئی نہیںہے یہی وجہ ہے کہ اقبال نے کہا تھا کہ اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی یہ طرز تعلیم ہی اصل ہتھیار ہے جو مغرب کے غلبے کا ذریعہ بنا ،اس ضمن میں لارڈ میکالے نے تو یہ بات سو سال قبل ہی کہ دی تھی کہ ہندوستان میں ایسا نظام تعلیم رائج کروں گا کہ جسے اپنا نے سے مسلمان خود کو مسلمان تو کہیں گے لیکن ان میں اسلام کی روح باقی نہیںرہے گی ،علامہ زاہد ہاشمی الازہری نے کہا کہ نظام تعلیم انسانی فکر کے ساتھ اس کے نظریے اور فطرت کو بھی تبدیل کر دیتی ہے ، مغربی طرز تعلیم مسلمان نسل کو غیر محسوس انداز میں فکری اور نظریا تی طورپر اسلامی تہذیب سے دور کر رہے ہیںاقبال نے کہا کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود،یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود۔ جناب رسول اکرم ﷺ نے بحیثیت معلم ، استاد ، مربی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی فرمائی آپ نے کھانے ،پینے ، سونے ، جاگنے چلنے ،گفتگو کرنے سمیت معاشرے کے ہرپہلو کے اداب سیکھا ئے ،ہمارے آقاسر ور عالم ﷺنے فرمایا کہ جو اپنے بڑوں اور چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیںجب تعلیم انسان کو بنیادی تربیت فراہم نہ کر رہی ہو تو پھر ڈگریاں کتنی ہی بڑی ہوںکوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ تعلیم ہی کے ذریعے مسلمان کو تہذیبی تمدنی طور پر اتنا پست کر دیا گیا اور مغرب نے اپنی تعلیم میں یہ بات سمجھائی کہ آپ آزاد ہیں دنیا وی اور دینی طور پر انسان پابند نہیں ہے ، مغر ب کے عالمی غلبے کے اسباب میں مغرب کا دیا ہوا نظام تعلیم ہی ہے جس میں تربیت کا فقدان ہے ۔