سیالکوٹ واقعے میں پولیس کی کوتاہی کا امکان نہیں، آئی جی پنجاب

142

پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہاہے کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث تمام مرکزی ملزمان گرفتار ہیں اور ان کی شناخت بھی ہوچکی ہے جبکہ آئی پنجاب نے پولیس کی کوتاہی کا امکان خارج کردیا۔

آئی جی پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت نے بتایا کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث 118گرفتار ملزمان میں 13مرکزی ملزم شامل ہیں، ان تمام مرکزی ملزمان کی شناخت ہوچکی ہے، واقعے سے متعلق 160کیمروں کی فوٹیج لی گئی ہے اور گرفتاریوں کے لیے 10ٹیمیں بنائی گئی ہیں جبکہ واقعے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں، آر پی او اور ڈی پی او 24 گھنٹے چھاپوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

حسان خاور کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ یہی ہے کہ موقع سے ایک چیز ہٹائی گئی تھی اور واقعے کی پولیس کو جب پہلی اطلاع ملی تو ہلاکت ہوچکی تھی، پولیس اور انتظامیہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہیں، ایسے واقعات ہمارے لیے اور ہمارے ملک کیلئے شرمندگی ہے۔

ترجمان پنجاب حکومت نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے سری لنکن شہری کی فیملی پاکستان میں نہیں ہے۔ اس موقع پر آئی پنجاب نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس نے فوری طورپر حکام کوآگاہ کیا، ڈی پی او اور ایس پی پیدل چل کر وہاں پہنچے، واقعے کے بعد راستے بلاک تھے اس میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، اگر واقعے میں پولیس کی کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے میں سارے ملزم تو قاتل نہیں ہر ملزم کا کردار طے کیا جائیگا اور تفتیش میں طے کریں گے کس ملزم کا کیا رول تھا، ابھی تک جتنی تحقیقات ہوئیں سب بتائی جاچکی، اب تک جو کچھ کیا ہے اس کی تفصیلات شیئر کررہے ہیں، 160 فوٹیجز کی روشنی میں گرفتاریاں کی جائیں گی۔