پاکستانی فارما کمپنیوں نے افغانستان کو ادویات کی مفت ترسیل شروع کردی

132

کراچی: افغانستان کے نئے وزیر صحت ڈاکٹر قلندر آباد کی درخواست پر پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے ادویات اور آلات کی افغانستان ترسیل شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں ہفتے کے روز کراچی سے ڈھائی کروڑ روپے مالیت کی ادویات لے کر دو کنٹینر اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

پاکستان فارما سوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی کے مرکزی وائس چیئرمین عاطف اقبال نے دی نیوز کو بتایا کہ پاکستانی فارماسوٹیکل کمپنیوں نے افغانستان کے لیے ادویات کی مفت ترسیل شروع کر دی ہے اور پی پی ایم اے نے ہفتے کے روز کراچی سے ڈھائی کروڑ روپے مالیت کی ادویات اسلام آباد روانہ کر دیں جہاں سے اگلے ہفتے یہ ادویات افغان وفد کے ہمراہ افغانستان بھجوا دی جائیں گی۔    

کراچی میں ساوتھ زون کے چیئرمین نادر خان اور پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے رہنماء غلام ہاشم نورانی کے ہمراہ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے عاطف اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستانی ادویہ ساز کمپنیاں اگلے ہفتے 10 کروڑ روپے مالیت کی ادویات افغانستان بھجوا رہی ہیں جب کہ آنے والے مہینوں میں مزید ادویات اور آلات افغانستان بھیجوائے جائیں گے۔

پی پی ایم اے لیڈر عاطف اقبال کا کہنا تھا کہ کراچی کے علاوہ لاہور اسلام آباد ملتان پشاور اور دیگر شہروں کی کمپنیاں بھی ادویات مرکزی ایسوسی ایشن کے حوالے کررہی ہیں، جبکہ کچھ مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں اپنے طور پر بھی ادویات افغانستان بھجوا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان وزیر صحت ڈاکٹر قلندر عباد نے پاکستانی کمپنیوں سے ایک سو ستر ادویات اور آلات کی درخواست کی ہے اور پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے ان میں سے زیادہ تر ادویات اور آلات افغانستان کو عطیہ کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے ادویات کے ساتھ ساتھ 400 وھیل چیئرز بھی بھجوا رہے ہیں، جو ادویات اور آلات کمپنیوں کے پاس موجود نہیں ہیں انہیں مقامی مارکیٹ سے خرید کر افغانستان بھجوایا جا رہا ہے،

کراچی سے ادویات بھجوانے والی اور عطیہ کرنے والی کمپنیوں میں ہائی کیو، فارم ایوو، آئی سی آئی، بوش فارما، سرل، میکسی ٹیک اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں، آنے والے چند دنوں میں کراچی سے مزید فارما کمپنیوں کی ادویات افغانستان براستہ اسلام آباد جائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ادویات کے بحران اور انسانی المیے کو روکنا چاہتے ہیں، حکومت پاکستان پاک افغان بارڈر پر اسپتال بنانے بھی جا رہی ہے جس کے لیے پاکستانی دوا ساز کمپنیاں بھرپورتعاون کریں گی۔