وزیر خارجہ گورنر ہائوس لاہور میں پریس کانفرنس

145

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ سیالکوٹ واقعے پر سری لنکا سے ہمارے سفارتی تعلقات خراب نہیں ہوئے اور سری لنکا نے پاکستانی موقف اور بروقت کارروائی کو سراہا ہے، پاکستان 19 دسمبر کو او آئی سی کے خصوصی سیشن کی میزبانی کرے گا، بنیادی توجہ افغانستان ہوگا،افغانستان کو تسلیم کرنے کے معاملے کی ابھی نوبت نہیں آئی، دنیا ہمارے رویے اور قول و فعل کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے، بھارت نے 15اگست کے بعد نظریہ پاکستان پر پابندی عائد کر نے کی بھر پور مہم چلائی ،ہم نے سفارتی محاذ پر نئی دہلی کی مہم کو شکست دی۔ لاہور میں گورنر ہائوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سیالکوٹ کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، حکومت نے واقعے میں متاثرہ خاندان سے رابطہ کیا ہے، متاثرہ خاندان جیسے چاہے گا ویسے ہی آگے بڑھیں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سری لنکا کے ہم منصب سے رابطہ ہوا ہے، سری لنکا سے ہمارے سفارتی تعلقات خراب نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے پر سب کو دکھ ہوا ہے، واقعے کے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، وزیراعظم خود اس کی نگرانی کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان 19 دسمبر کو او آئی سی کے ایک خصوصی سیشن کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جس کی بنیادی توجہ افغانستان ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بروقت توجہ نہ دی گئی تو انسانی المیہ جنم دے سکتا ہے، اگر افغانستان کے اثاثے منجمد رہے تو معاشی بحران جنم لے سکتا ہے اور ایسی صورتحال میں یہ حالات تشویش ناک ہو سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق 2کروڑ 28لاکھ افغان غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں اور 32لاکھ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس 41برس بعد منعقد ہو رہا ہے، 19دسمبر کے اجلاس سے پہلے 18تاریخ کو او آئی سی کے اعلی حکام پاکستان آ جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اجلاس کے لیے امریکا، چین، برطانیہ، روس کے نمائندہ سمیت یورپی یونین اور یو این ایجنسی کے متعلقہ نمائندوں اور ورلڈ بینک کے نمائندوں کو بھی دعوت دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جرمنی، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے نمائندوں کو بھی بلایا جا رہا ہے، ہم افغانستان کے ایک اعلی سطح وفد کو بھی دعوت دیں گے کہ وہ بین الاقوامی وفد کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ یہ نظریہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم سعودی ولی عہد کی دعوت پر سعودی عرب گئے تھے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ افغانستان او آئی سی کا فاونڈنگ ممبر بھی ہے اس کے لئے ہمیں کچھ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 15اگست کے بعد پاکستان کے خلاف بھر پور مہم چلائی، جس کا نظریہ پاکستان پر پابندی عائد کرنا تھا لیکن پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھارت کی اس مہم کو شکست دی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر یہ باوور کروا چکا ہے کہ سب کے ساتھ مشغولیت ہونی چاہیے، ہم نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ ہم اپنے سفارتی تعلقات بڑھائیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں دو چیزوں کی جانب توجہ مبذول کرائیں گے، ایک انسانی المیہ جنم لینے سے پہلے اس کو قابو کرنا اور کانفرنس کے ذریعے وسائل اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 50ہزار ٹن گندم افغانستان کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور بھارت کو افغانستان کے لیے گندم دینے میں بھی سہولت کاری دینے کا عندیہ دیا ہے، پاکستان کو اپنے افعان بھائیوں کے لیے راستہ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو تسلیم کرنے کے معاملے کی ابھی نوبت نہیں آئی، دنیا ہمارے رویے اور قول و فعل کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ گزشتہ شب میری چین کے اہم شخصیت سے بات ہوئی اور تبادلہ خیال کیا، کچھ لوگ سی پیک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ا نہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پاکستان کا ہاتھ موڑنا چاہتی ہیں، اگر ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کا نام اب نہ نکالا گیا تو پھر اس کی جانبداری پر سوال آ جائے گا۔