گھر ٹوٹنے سے بچانے کیلئے خاتون سے رشوت مانگنے اور ہراساں کرنے والے ڈپٹی ڈائریکٹرز معطل

218

بلدیہ عظمی کراچی کے دو ڈپٹی ڈائریکٹرز کو خاتون کو ہراساں کرنے کے الزام میں معطل کردیا گیا، گجر نالے کی متاثرہ خاتون نے ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا ، واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔  جنسی طور پر ہراساں کرنے پر بلدیہ عظمی کے دو ڈپٹی ڈائریکٹرز کو معطل کردیا گیا ، کے ایم سی نے دونوں ڈپٹی ڈائریکٹرز عارف قاضی اور مسروراقبال کی معطلی کے نوٹس جاری کردیے۔دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے گجرنالہ متاثرین کو جنسی طور  پر ہراساں کیا، عارف قاضی کچی آبادی اور مسرور اقبال انسداد تجاوزات ایسٹ میں تعینات ہیں۔کے ایم سی کے مطابق ایک خاتون کی شکایت پر کارروائی عمل میں لائی گئی،خاتون کا کہنا تھا کہ  نالوں پر کارروائی کے دوران گھر  بچانے کیلئے رشوت طلب کی گئی تھی، رشوت کے ساتھ خاتون کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا گیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے  پاس میسجز اور  وائس ریکارڈنگ موجود ہیں۔افسران کو معطل کرنے کے بعد تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔کمیٹی حقائق کا جائزہ لے کر پانچ روز میں رپورٹ جمع کروائے گی۔کمیٹی عذرا مقیم، غلام مرتضی بھٹو اور عرفان سلام پر مشتمل ہے۔  ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضی وہاب کا کہنا ہے مبینہ طور پر دو افسران نے خاتون سے رشوت طلب کی اور ہراساں کیا، معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے، معاملے کو سیاسی رنگ دیے بغیر شفاف تحقیقات کی جائے، اس قسم کی نازیبا حرکات کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، انکوائری کے بعد ملوث افسران کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔