متوقع نتائج حاصل نہ ہوئے تو دوسرا منی بجٹ آئے گا، میاں زاہد حسین

102

کراچی (اسٹاف رپورٹر )نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے چھ سو ارب روپے کا منی بجٹ لانے کے فیصلے نے عوام اور کاروباری برادری کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ منی بجٹ آئی ایم ایف کے معاہدے کا نتیجہ ہے جس میں اقتصادی ترقی کے بجائے معاشی استحکام کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں اقتصادی سست روی جنم لے گی ،مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور بے چینی میں اضافہ ہو گا جبکہ بہت سے کاروبار دیوالیہ ہو جائیں گے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منی بجٹ کے نتیجہ میں ترقیاتی بجٹ میں دو سو ارب روپے کی کٹوتی ہو گی جس سے عوام متاثر ہو ں گے اور تین سو پچاس ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لے لی جائے گی جس سے کاروباری لاگت اور مہنگائی مزید بڑھے گی اور اس کے بعد آئی ایم ایف کا بورڈ جنوری میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط ادا کرنے کے بارے میں غور کرے گا۔ اگر ان اقدامات کے نتیجہ میں زبردست مہنگائی کے باوجود متوقع نتیجہ نہ نکلا تو آئی ایم ایف کے دبائو پردوسرے منی بجٹ کا امکان بھی موجود ہے جس میں سیلز ٹیکس کی شرح ، تنخواہوں اورپینشن و غیرہ پر ٹیکس میں اضافہ کا آپشن موجود ہے۔