گھارو ، صاف پانی کی قلت ، شہری خرید کر پینے پر مجبور

87

 

 

گھارو (نمائندہ جسارت)گھارو میں پبلک ہیلتھ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث شہر میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جہاں علاقہ مکین پینے کا صاف پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گھارو شہر کے وارڈ نمبر 7 میں گزشتہ کئی ماہ سے پینے کے پانی کے لیے علاقہ مکین سخت پریشان ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ کافی عرصے سے ان کے وارڈ نمبر 7 میں پینے کا پانی اچانک آنا بند ہوگیا ہے جس کے بعد انہوں نے مقامی انتظامیہ جس میں ٹاؤن کمیٹی گھارو شامل ہے اطلاع کی اور محکمہ پبلک ہیلتھ کو بھی ایک درخواست دی جس میں انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا مگر افسوس کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود وہ آج تک پینے کے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ہیلتھ لاکھوں کروڑوں روپے بجٹ لینے کے باوجود اسے صحیح جگہ پر خرچ نہیں کررہا اور انہیں 1988ء کی بچھائی گئی پرانی لائنوں کے ذریعے پانی دیا جارہا تھا جو اب بالکل ناکارہ ہوچکیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے شہر کی حالت خراب ہے شہر میں جگہ جگہ لگے پانی کے مین والوں کے مین ہولوں میں گٹرکا گندا پانی بھرا رہتا ہے جو والوں سے لیک ہوکر گھروں میں پہنچ رہا ہے جس کو پی کر بچے بوڑھے پیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ کھدائی کے دوران ٹوٹنے والی پانی کی مین لائن کو فوری ٹھیک کراکے انہیں صاف پانی مہیا کیا جائے اور شہر میں مختلف مقامات پر لگے والوں کے مین ہولوں کو ٹھیک کیا جائے اور محکمہ پبلک ہیلتھ کو ملنے والے بجٹ کی انکوائری کی جائے کہ وہ کہاں خرچ کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت نے جلد ان کے مطالبات پر عمل نہیں کیا تو وہ اس کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔