امریکا و یورپ کا ٹیکنالوجیکل چیلنج

296

(امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی کا درجۂ حرارت بلند ہوتا جارہا ہے۔ چین مختلف معاملات میں برتری چاہتا ہے جبکہ امریکا کو اپنی برتری داؤ پر لگتی دکھائی دے رہی ہے۔ یورپ بھی پریشان ہے۔ امریکا کا ساتھ دیتے رہنے سے اُسے بہت سے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اب چین کے خلاف اُسے امریکا کا ساتھ دینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کو پوری دنیا پر حکومت کرنے سے باز رکھنے کے لیے امریکا اور یورپ کو مل کر کچھ کرنا ہوگا۔ زیرِ نظر مضمون اِسی تناظر میں ہے۔ اِس مضمون کے الفاظ اور اندازِ تحریر دونوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ معاملہ کتنا سنگین اور پریشان کن ہے۔ مغرب کے سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں نے چین کو سب سے بڑا حقیقی خطرہ قرار دے کر اُس کے خلاف جانے کی راہ ہموار کرنا شروع کردیا ہے۔ مغربی حکومتوں اور پالیسی سازوں پر زور دیا جارہا ہے کہ چین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے امریکا اور یورپ کو مل کر کام کرنا ہوگا۔)
…………..
سرد جنگ کے زمانے میں امریکا اور یورپ نے سوویت یونین کو مشترکہ دشمن سمجھتے ہوئے اشتراکِ عمل کیا۔ یہ اشتراکِ عمل دفاعی معاملات میں تھا۔ تب سوویت یونین سے کوئی معاشی چیلنج پیدا نہیں ہوا تھا۔ اب پھر سرد جنگ کا ماحول ہے۔ اِس بار چین کی شکل میں امریکا اور یورپ کی بالا دستی کے لیے سب سے بڑا خطرہ موجود ہے۔ اس بار چیلنج معاشی نوعیت کا ہے۔ چین نے اب تک عسکری قوت بڑھانے پر توجہ نہیں دی ہے۔ امریکا اور چین کو ٹیکنالوجی کے محاذ پر چین کا سامنا کرنا ہے۔ چین نے چار عشروں کی اَن تھک محنت کے ذریعے خود کو مینوفیکچرنگ شاپ میں تبدیل کرلیا ہے۔ اس شعبے میں امریکا اور یورپ میں سے کوئی بھی چین سے مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ چین بجائے خود ایک بڑی منڈی ہے، وہاں معیاری ورک فورس موجود ہے اور دنیا بھر سے سرمایہ کار بھی اُس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
بیری ناٹن نے اپنی کتاب ’’دی رائز آف چائناز انڈسٹریل پالیسی 1978 ٹو 2020‘‘ میں چین نے خود کو مینوفیکچرنگ شاپ میں تبدیل کرنے تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اب وہ ٹیکنالوجیز کے شعبے میں اپنی بالا دستی یقینی بنانے کی تگ و دَو میں مصروف ہے۔ چین روبوٹکس، بایو ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر ٹیکنالوجیز میں اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔
سوال صرف برتری قائم کرنے کا نہیں ہے۔ چین نے سرکاری سرپرستی میںکام کرنے والے سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے بھی بہت کچھ پانے کی کوشش کی ہے۔ امریکا اور چین کی صنعتی پالیسیوں میں کئی اعتبار سے بنیادی فرق موجود ہے۔ امریکا اور یورپ اب تک بنیادی صنعتی تربیت پر توجہ دیتے ہیں یعنی تربیت کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے اور تحقیق و ترقی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف چین کی کمیونسٹ پارٹی، جو معیشت پر حاوی و متصرف ہے، چاہتی ہے کہ کسی بھی طرح معاشی اور تکنیکی برتری یقینی بنائی جائے۔ امریکا اور یورپ کے کاروباری اداروں کو چین کی طرف سے اوپن مارکیٹ میں بھی شدید نوعیت کی مسابقت کا سامنا ہے اور پسِ پردہ بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔ چینی قیادت امریکی اور یورپی کاروباری اداروں سے امتیازی سلوک روا رکھتی ہے۔ ٹیکسوں کے ذریعے اُن کی راہ میں مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں۔ ذہنی اثاثوں کی چوری کو بھی معیوب نہیں سمجھا جارہا۔ چین کی ترقی مجموعی طور پر نقل کی مرہونِ منت ہے۔
چین بڑی منڈی ہونے کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اُس کے پاس غیر معمولی ورک فورس ہے۔ ہنر مند اور تربیت یافتہ افراد کی کمی کبھی نہیں رہی۔ چین میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ دنیا بھر سے سرمایہ کار کِھنچ کر چین آرہے ہیں۔ اس وقت ٹیکنالوجیز کی عالمی مارکیٹ میں امریکا اور یورپ کا شیئر سب سے زیادہ ہے۔ چین اسے بھی غصب کرنے کے درپے ہے۔ چین کسی نہ کسی طور اپنا حصہ بڑھانے میں جُتا ہوا ہے۔ ایک زمانے تک چین نے مغرب کے طور طریقے سیکھ اور چراکر اپنے لیے مینوفیکچرنگ شاپ تیار کی۔ یہی طریق کار اب ہائی ٹیک کے معاملات میں بھی اپنایا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جاپان نے مل کر کوشش کی کہ کسی نہ کسی طور چین میں پیداوار کی سطح نیچے لائی جائے مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ یہ سب ورک فورس اور مارکیٹ کی وسعت کا کمال ہے۔
چین اب ہائی ٹیک میں واضح برتری یقینی بنانا چاہتا ہے۔ امریکا میں سلیکون ویلی ہے جہاں ہائی ٹیک فرمز مرتکز ہیں۔ چینی قیادت پورے ملک کو سلیکون چائنا میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ چینی قیادت صرف آئی ٹی کے شعبے میں نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی ہر ٹیکنالوجی میں اپنی بات منوانا چاہتی ہے۔ ایک دور تھا کہ ہانگ کانگ، سنگاپور، تائیوان اور جنوبی کوریا ایشین ٹائیگر کہلاتے تھے۔ چین خود کو اُس مقام تک لے جانا چاہتا ہے جہاں اُس کی برتری کو چلینج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ ایشین ٹائیگر کہلانے والے ممالک نے جمہوریت بھی اپنائی اور قانون کی بالا دستی پر یقین بھی رکھتے تھے۔ چین محض برتری چاہتا ہے یعنی کسی نہ کسی طور آگے بڑھنے کے فراق میں ہے۔ بیش تر معیشتی معاملات پر واضح سرکاری کنٹرول ہے۔ ایسے میں جمہوریت کے پنپنے کی گنجائش بھی نہیں۔
صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین ایک بار پھر ماؤ نواز طرزِ حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تمام ابھرتی ہوئی ہائی ٹیک انڈسٹریز میں چین اپنی برتری اس طور یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایشیا ہی نہیں، مغرب میں بھی کوئی آسانی سے منہ نہ دے سکے۔ اگر چین نے ہائی ٹیک کے شعبے میں برتری پائی تو عسکری اعتبار سے بھی مضبوط ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں مغربی دنیا کے لیے مختلف اشیاء کی رسد کا برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ امریکا اور یورپ آپس کی لڑائیاں ختم کرکے چین کے خلاف متحد ہوں۔ ائر بس اور بوئنگ کے درمیان تنازع نے معاملات کو بہت بگاڑا ہے۔ یہ سب بھول کر حقیقی چیلنج یعنی چین پر نظر رکھنا ہے۔ مختلف مصنوعات پر ٹیرف کے معاملے میں بھی امریکا اور یورپ کو ایک دوسرے کو رعایتیں دینا ہوں گی۔ فرانس اور جرمنی جیسے مضبوط ممالک نے اس معاملے میں ڈجیٹل ساورنٹی کی راہ پر گامزن ہونے کی ابتداء کی تھی۔ امریکی اداروں کو ہائی ٹیک کے شعبے میں یورپ کے ساتھ مل کر چین کا مقابلہ کرنا ہے۔ بات صرف تکنیکی مہارت کا سامنا کرنے کی نہیں بلکہ چین کی غلط پالیسیوں اور ہتھکنڈوں سے نمٹنے کی بھی ہے۔ سائبر سیکورٹی کے حوالے سے سوچنا بھی ہے اور بہت کچھ کرنا بھی ہے۔ سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال بھی کی جانی چاہیے۔ اگر کوئی بڑا تنازع سر اٹھائے تو اُسے عالمی تجارتی تنظیم میں لے جانا بھی لازم ہے۔ برآمدات کنٹرول کرنے کے حوالے سے بھی مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ سرِدست کوئی بھی ملک یا خطہ تمام ٹیکنالوجیز میں تنہا بھرپور مہارت یقینی نہیں بناسکتا۔ اس معاملے میں اشتراکِ عمل کے بغیر گزارا نہیں۔ امریکا اور یورپی یونین کے سرکاری اداروں کو بھی بڑے پیمانے پر تعاون کی راہ پر گامزن ہوگا۔ یورپی یونین میں ہورائزن 2020 اور امریکا میں نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اس حوالے سے موزوں ادارے ہیں۔
ہائی ٹیک کے شعبے میں اب مرکزی مقابلہ 6 جی، انرجی اسٹوریج، بیٹری، خود کار نظام، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز کے حوالے سے ہے۔ سوال صرف اداروں کے درمیان اشتراکِ عمل کا نہیں۔ جامعات اور حکومتوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر آکر کوشش کرنا ہے۔ امریکا اور یورپ کے سائنس دانوں اور انجینئروں کو ایک دوسرے کے خطوں میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جانی چاہیے۔
…………..
www.theglobalist.com
Boosting Transatlantic Technology Cooperation
By Robert D. Atkinson
November 29, 2021