عارف علوی، بیروزگاری اور خودکشی کے واقعات

324

کراچی کے علاقے انچولی کا رہائشی 28 سالہ زہیر حسن ولد ہاشم عابدی نے گھریلو حالات و بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔ مرحوم انتہائی قابل تھا ریاضی میں بی ایس سی آنرز فرسٹ ڈویژن میں پاس یہ نوجوان بہترین تعلیم کے بعد باوجود مناسب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر نفسیاتی مریض بن چکا تھا۔ بے روزگاری اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود روزگار نہ ملے تو انسان نفسیاتی مریض بن ہی جاتا ہے، نفسیاتی مریض نہ بھی بنے تو بے روزگار افراد کے پاس موت کی خواہش کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ یہ کہنا بالکل ہی غلط لگتا ہے کہ بے روزگاری کی وجہ سے لوگ نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بیروزگاری یا باقاعدہ ذریعہ معاش نہ ہونا میری نظر میں سب سے بڑی بیماری ہے اور مرض بڑھتا ہے تو کم ہمت افراد خود کشی تک کرلیا کرتے ہیں، اس لیے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہر ایک کا روزگار سلامت رکھے اور اس میں ترقی بھی عطا کرے۔ کراچی میں زبیر کی خودکشی کے واقعے سے قبل ایک صحافی فہیم روزگار نہ ہونے کی وجہ سے تنگ آکر اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر زندگی کا خاتمہ کرچکا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکمرانی کے دور میں اگر کسی سے ایک شے کے قیمت میں کمی آئی ہے وہ انسانی جانیں ہیں۔ جبکہ تقریباً ہر شے کی قیمتوں میں تو میں صرف اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی بڑھنے کے ساتھ بے روزگاروں کی تعداد میں برسوں نہیں بلکہ یومیہ بنیادوں پر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 21-2020 کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ مالی سال 20-2019 کے دوران یہ تعداد 58 لاکھ رہی ہے۔
پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ خودکشی کے واقعات بڑھنے کی خبروں کے ساتھ خبر آئی ہے کہ صدر مملکت عارف علوی کے بیٹے نے ذاتی کاروبار کو وسعت دیتے ہوئے اس کی تقریب گورنر ہاؤس سندھ میں منعقد کروائی۔ اللہ ان کے کاروبار کو مزید ترقی دے۔ جب ملکوں میں حکمرانوں اور ان کی اولادوں کے کاروبار میں ترقیاں ہوتی ہیں تو عام لوگوں کے کاروبار متاثر ہونے لگتے ہیں، کیوں کہ معروف اصولوں کے مطابق حکمران اپنی نہیں بلکہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے اقتدار میں آیا کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے پاک وطن میں الٹا ہوتا چلا آرہا ہے۔ ملک کے ایک سابق صدر مملکت جو کراچی ہی کی معروف شخصیت تھے، جن کے صاحب زادے نے اپنے والد کے صدر بننے کے پہلے سال ہی کراچی کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کو قیمتی اور نایاب جانوروں کی فروخت کے مرکز میں تبدیل کر دیا تھا۔ روزنامہ جسارت میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کو قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کا مرکز بنائے جانے کی خبر کی اشاعت کے بعد ریڈ زون میں واقع ہے اس اہم عمارت سے مویشیوں کے کاروبار کو کسی اور نئی جگہ پر منتقل کردیا تھا۔
دندان ساز عارف علوی اور ان جیسی متعدد شخصیات کراچی اور کراچی کے رہنے والے لوگوں کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سیاست میں آکر، اس کے ذریعے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے دعوں اور وعدوں کو اپنی ذات تک محدود کرلیا کرتے ہیں، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہمارے ملک میں عام طور پر یہ ہوتا رہتا ہے، ایسے لوگوں کا انچولی کے زہیر اور میڈیا کے فہیم مغل جیسے پریشان افراد سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اس طرح کے لوگ محلوں اور گلیوں میں سبزی اور شیر فروشوں جیسی اخلاقیات اور انسانی ہمدردی سے بھی ناواقف ہوا کرتے ہیں۔ لیکن اصل قصوروار وہ ہوتے ہیں جو ان جیسوں کو سیاست میں لاکر اقتدار تک پہنچا دیا کرتے ہیں۔
کسی اور ملک میں جمہوری منتخب صدر مملکت کی یہ جرأت نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے عوامی عہدے اور اختیارات کا اس طرح ناجائز استعمال کرے اور کوئی ذاتی فائدہ اپنے خونی رشتے دار کو بھی پہنچادے، وہاں کا قانون ایسا کرنے والوں فوری گرفت میں لے لیا کرتا ہے۔ مگر یہ تو آزاد جمہوریہ ہے۔ اس ملک کے حکمرانوں پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا آئین اور قانون تو کیا یہ تو اخلاقی ذمے داریوں سے بھی مبرا ہوتے ہیں۔ صدر مملکت عارف علوی نے اپنے بیٹے اواب علوی کی سرکاری اور آئینی عمارت میں ناصرف نجی تقریب کروائی بلکہ ٹویٹر کے ذریعے اس کا اعتراف بھی کیا۔ اس طرح کی بے باکی کی مثال صرف تحریک انصاف کے دور اقتدار ہی میں نظر آرہی ہے۔ خوش گمانی ہے کہ اس پارٹی کو اقتدار میں لانے والی قوت شاید آئینی عمارت کے غلط استعمال کا نوٹس لے کر متعلقہ شخصیات کے خلاف کارروائی کرے۔