دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت

303

وزیر اعظم عمران خاں نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کی پالیسی سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، جو کوئی بدعنوانی اور مالی خورد برد کے معاملات پر مٹی ڈالنے کی کوشش کرے، مجھے بتائیں، موجودہ حکومت کی کرپشن کو بھی بے نقاب کیا جائے۔ جمعرات کے روز اسلام آباد میں مجلس شوریٰ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے حکومتی ارکان سے ملاقات کے موقع پر وزیر اعظم نے ہدایات دیں کہ تمام حکومتی ارکان کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ حکومتوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں سے متعلق بھر پور تیاری کر کے شریک ہوں۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی رقوم کا محافظ ادارہ ہے۔ مگر اس میں بدعنوانیوں کی نشاندہی کے اب تک موثر نتائج قوم کے سامنے نہیں آ سکے۔ کمیٹی کے ارکان کا موقف ہے کہ کمیٹی صرف آڈٹ پیروں کا جائزہ لیتی ہے، ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں کی کمزوردیوں کے باعث بدعنوانی کے معاملات منطقی انجام تک نہیں پہنچتے۔ وزیر اعظم نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے حکومتی ارکان کو اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت یقینی بنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب منجھے ہوئے سیاستدان ہیں آپ لوگوں کا کردار بہت اہم ہے، آپ حکومتی اقدامات کو زیادہ اجاگر کرنے کے لیے فعال اور موثر کردار ادا کریں، ہمیں آپ سے بدعنوانی سے متعلق امور کو نمایاں کرنے کی توقع ہے، حزب اختلاف کے قائدین اپنے دور اقتدار میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو چھپانے اور ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، پبلک اکائونٹس کمیٹی کے حکومتی ارکان سابقہ حکومتوں کی بدعنوانیوں کو منظر عام پر لائیں اور موجودہ دور کی غلط کاریوں کو بھی بے نقاب کریں ، بدعنوانی کی حمایت کرنے والے کسی بھی فرد سے رعایت نہ برتی جائے، جو بھی اس میں ملوث ہو اسے قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ تحریک انصاف کو ملک کا اقتدار سنبھالے اور جناب عمران خاں کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ساڑھے تین برس ہونے کو آئے ہیں مگر وہ ابھی تک ہدایات جاری کرنے اور بلند بانگ عزائم کے اظہار ہی میں مصروف ہیں قوم ان کی تقریریں سن سن کر تنگ آ چکی ہے اور اب ان سے نتائج کی متمنی ہے جو بدقسمتی سے بدعنوانی کے خاتمہ کی عوامی توقعات کے برعکس بدعنوانی۔ رشوت ستانی اور دیگر برائیوں میں اضافہ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں جس سے عوام کی مایوسی اور نا امیدی میں اضافہ فطری امر ہے۔ بہتر ہوتا کہ وزیر اعظم عمران خاں پبلک اکائونٹس کمیٹی کے حکومتی ارکان کے سامنے اپنی کارکردگی کی عملی مثال پیش کرتے کہ جس طرح میں نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے وعدوں کے مطابق فلاں فلاں بدعنوان عناصر اور طبقات کو نشان عبرت بنا دیا ہے، آپ بھی میری تقلید کرتے ہوئے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں مگر اب جب کہ ان کے آئینی عرصہ اقتدار کی دو تہائی مدت گزر چکی ہے، وہ تمام تر دعوئوں کے باوجودکسی ایک بھی بدعنوان فرد کر کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکے حالانکہ ماضی کے حکمران زرداری اور شریف خاندان کو وہ نام لے لے کر اپنی تقریروں میں دھمکایا کرتے تھے کہ انہیں چھوڑوں گا نہیں مگر وہ ان میں سے بھی کسی کا بال تک بیکا نہیں کر سکے، ان کے علاوہ پانامہ پیپرز اور پنڈورا لیکس میں بے نقاب ہونے والے بدعنوان افراد میں سے بھی کسی ایک کو سزا تو دور کی بات ہے ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز تک نہیں کیا جا سکا۔ مزید آگے بڑھیں تو چینی، آٹا، ادویات اور پٹرولیم مصنوعات کے بحرانوں کے ذمہ دار مافیاز بھی کھلے بندوں دندناتے پھر رہے ہیں اور اپنا مذموم کاروبار دھڑلے سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں وزیر اعظم کی سنگین نتائج کی دھمکیوں کی پرکاہ کے برابر بھی پرواہ نہیں۔ اس لیے جناب وزیر اعظم کے لیے لازم ہے کہ پہلے خود اپنے دعوئوں کے مطابق کچھ کر کے دکھائیں پھر پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ارکان اور دوسرے لوگوں کو نصیحتیں کریں، آپ کی عملی مثال کے بغیر ان نصیحتوں کی حیثیت’’دیگراں را نصیحت‘ خود میاں فضیحت‘‘ سے زیادہ کچھ نہیں…!!!