!عوام کو تنگ ’’ آمد بجنگ آمد ‘‘ پر مجبور نہ کیا جائے

184

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے نہایت کڑی شرائط پر ایک ارب پانچ کروڑ نوے لاکھ ڈالر کا قرض لینے کے لیے ہماری حکومت نے غلامی کی جس دستاویز پر دستخط کئے ہیں اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں، اس قرض کی منظوری فنڈ کا ایگزیکٹو بورڈ بارہ اجلاس کو اپنے اجلاس میں دے گا، اس سے قبل معاہدہ کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہمارے لیے لازم ہے ورنہ ہمیں قرض کی ادائیگی سے انکار بھی کیا جا سکتا ہے چنانچہ اطلاعات ہیں کہ حکومت ماہ رواں کے دوران اس سال کا دوسرا منی بجٹ پیش کرے گی جس کا مسودہ تیار کر کے وزارت قانون کو بھجوا دیا گیا ہے اس منی بجٹ کے تحت ساڑھے تین سو ارب روپے کے مزید ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جائے گا اور بہت سی ایسی اشیاء جن پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح اس وقت پانچ، سات، دس، بارہ، چودہ اور سولہ فیصد رکھی گئی ہے یہ رعایتی شرحیں ختم کر کے اسے سترہ فیصد پر لایا جائے گا، اسی طرح انکم ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی کے نظام میں جو 1314 ارب روپے کی چھوٹ دی گئی تھی اس میں بھی پچاس فیصد کمی کر دی جائے گی۔ وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے منصوبوں میں دو سو ارب روپے کی کمی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹس میں بھی پچاس ارب روپے کی کٹوتی کی جائے گی۔ مجوزہ بل میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف بھی بڑھا کر 6100 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آئی ایم ایف سے طے کئے گئے معاہدہ کی پانچ پیشگی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح میں ہر ماہ چار فیصد اضافہ کیا جائے گا اور اس شرح کو تیس روپے فی لٹر تک لے جایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کے باوجود حکومت نے یکم دسمبر کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عوام کے لیے سابقہ شرح پر برقرار رکھی ہیں اور آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق لیوی کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔ طے شدہ شرائط ہی کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بھی حکومت پر لازم ہو گا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ہدایت کے مطابق کے ان اقدامات کا براہ راست بوجھ پاکستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا ہو گا جن کی کمر مہنگائی کے بوجھ سے پہلے ہی دہری ہوئی جا رہی ہے، ٹیکسوں کی شرح میں یہ نیا اضافہ ’’ مرے کو مارے شاہ مدار ‘‘ کے مترادف ہو گا۔ حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ ٹیکسوں کے یہ آئے روز بڑھتے ہوئے بوجھ پہلے سے مہنگائی اور بے روز گاری کے ستائے عوام کو ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ پر مجبور نہ کر دیں