سانحہ سیالکوٹ کا دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں،سراج الحق

202
پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق مرکزاسلامی میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

لاہور/پشاور(نمائندگان جسارت)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سیالکوٹ میں پیش آنے والے سانحے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی قابل افسوس اور اسلام و شرف انسانیت کی توہین ہے۔ سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کا بے دردی سے قتل پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔ ایسے واقعات سے اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کو مزید زہر اگلنے کا موقع ملے گا۔ سیالکوٹ واقعے کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے مجرموں کو گرفتار کیا جائے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔علاوہ ازیں ضلع مردان کی ممتاز سیاسی، کاروباری شخصیت اور جے یو آئی کے سابق امیر حافظ عبدالرحمن، عربی حاجی صاحب کے نواسے عاقب اسماعیل اور ان کے خاندان کی جماعت اسلامی میں شمولیت کے موقع پر مرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایما پر تیار کردہ حکومتی منی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ منی بجٹ سے مہنگائی ، بے روزگاری ، غربت میں مزید اضافہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کی سوا 3 سالہ کارکردگی سے ملک 30 سال پیچھے چلا گیا۔ موجودہ حکومت مافیاز کے لیے سہولت کار اور انھیں تحفظ فراہم کررہی ہے۔ کابینہ اور پارلیمنٹ میں مافیاز بیٹھے ہیں ۔ کرپٹ اشرافیہ اور پاکستان مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔پی ڈی ایم نے ہر موقع پر پی ٹی آئی کا ساتھ دیا اور آپس میں خاموش معاہد ہ کیا۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کے حکومت کے خلاف بیانات ہوائی فائرنگ کے سوا کچھ نہیں۔ پرویز مشرف سے لے کر پی ٹی آئی تک سب حکومتوں نے سودی معیشت کا کاروبار کیا۔ ہمارے حکمران خود جا کر آئی ایم ایف کے ترلے اور منتیں کر کے سود پر قرض لیتے ہیں جو ملک کی معیشت کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ملک کی بقا اورعوام کی خوشحالی اسلامی نظام کو اپنانے میں ہے۔ لوگ مہنگائی کی وجہ سے فاقوں مر رہے ہیں، بے روزگاری اور غربت گھر گھر ناچ رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرضوں کا حصول ملک کی آزادی و خودمختاری کو گروی رکھنے کے مترادف ہے۔ہردن مہنگائی ، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ۔جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے رہی ہے ۔ پشاور سے میئر شپ میں کامیابی حاصل کر کے جماعت اسلامی پشاور کو ایک مثالی ، جدید اور پھولوں کا شہر بنائے گی۔ جماعت اسلامی نے مفادات سے بالاتر ہوکر عوام کی خدمت کی ہے۔ بینکوں کے قرضوں سے لے کرپنڈورا پیپرز اور پاناما لیکس تک کہیں بھی جماعت اسلامی کے کارکنان کا نام نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کی نمائندگی پارلیمنٹ میں کم، لیکن عوام کے جذبات کی ترجمانی کے لیے ایک توانا آواز ہے۔ عاقب اسماعیل اور ان کے خاندان کو جماعت اسلامی میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خاموش معاہدہ ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ 74 سال میں اس ملک پر جرنیلوں، کرپٹ ظالم جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے حکومت کی، جنہوں نے پاکستان کے نظریے اور جغرافیے کے ساتھ غداری کی۔ انہوںنے کہاکہ آج ملک میں مہنگائی ناچ رہی ہے اور پوری قوم کے ہاتھوں میں آئی ایم ایف کی غلامی کی ہتھکڑیاں ہیں اور چند ڈالرز کے عوض ہماری آزادی ، خود مختاری اور عزت و وقار کو بیچا جا رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کو دوبارہ ایک خودمختار ، باوقار اور آزاد ملک بنانے کے لیے قوم کو جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ ملک کے ہر حصے میں عوام حکمرانوں کو کوس رہی ہے۔ مہنگائی کے طوفان نے لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ گورننس کا برا حال ہے اور کرپشن اداروں میں سرایت کر چکی ہے۔ وزیراعظم دن رات مافیاز کا رونا روتے ہیںجو ان کے اردگرد ہی موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل قرآن و سنت کے نظام میں ہے جس کے لیے جماعت اسلامی جدوجہد کر رہی ہے ۔ قوم ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ پریس کانفرنس میں قائم مقام امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا عبدالواسع ،رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی، امیر ضلع پشاور عتیق الرحمن، امیر ضلع مردان غلام رسول، امیدوار پشاور میئر بحراللہ خان، سابق رکن صوبائی اسمبلی میاں نادر شاہ اور بلامقابلہ منتخب ہونے والے چیئر مین و کونسلر بھی موجودتھے۔