اسٹیٹ بینک ڈیڑھ ماہ بعد مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا،مشیر خزانہ

199

اسلام آباد: مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک ڈیڑھ ماہ بعد مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا،مہنگائی عالمی مسئلہ ہے جس کے پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔

مشیر تجارت رزاق داؤد کے ہمراہ پریس کانفرنس  کرتے ہوئے مشیر خزانہ  نے کہا کہ حکومت عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی کےلئے کوشاں ہے، معیشت درست سمت میں جا رہی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے،ڈسکاؤنٹس ریٹ آٹھ اعشاریہ چار پانچ فیصد کیا گیا ہے،جن چیزوں کی قیمتیں بڑھیں وہ تمام امپورٹڈ ہیں،ملک میں ڈسکاونٹ ریٹ بڑھا کر 8.45کیا گیا، گزشتہ سال کی نسبت ریونیو میں  36  فیصد اضافہ ہوا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں 508ملین ڈالر کا ماہانہ فرق ہے،باقی چیزیں پیٹرولیم مصنوعات بڑھنے کی وجہ سے مہنگی ہوئیں،ڈومیسٹک انفلیشن اصل میں گزشتہ سال سے کم ہوئی ہے،ایکسپورٹس2.5سے 3.5فیصد پر گئیں،درآمدات 7.7بلین ڈالر ہونے کی خبر آئی تو کہا گیا تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔

مشیر تجارت نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال محصولات میں 36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حکومت مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے اشیائے ضروریہ پر زیادہ توجہ دے رہی ہے،ملکی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔