سودی نظام  کیس کو جلد نمٹانے کی کوشش کریں گے، وفاقی شرعی عدالت

180

اسلام آباد:وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خاتمے کی دائر درخواستوں پرسماعت 9 دسمبر 2021 ء  تک ملتوی کر دی۔

 چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس  محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور، جسٹس خادم حسین ایم شیخ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سود کے خاتمے کیلئے  دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

 دوران سماعت عدالتی معاون انور منصور خان نے  دلائل دیتے ہوئے   موقف اپنایا کہ آئین میں ملک سے رباہ ختم کرنے کی ہدایت براہ راست ہے، ملک میں کنونشن بینکنگ کی کوئی گنجائش نہیں، اسٹیٹ بینک کی سمت درست ہے لیکن حکومت رکاوٹ ہے، دنیا سودی نظام سے دور جارہی ہے،آئی ایم ایف بھی کہہ رہا ہے کہ سود کے بغیر نظام چل سکتا ہے۔

عدالت میں جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم نے مؤقف اپنایا کہ عدالت حکومت کو اپنے اعتراضات ثابت کرنے کے لیے ٹائم لائن دے،حکومت بینکنگ انٹرسٹ کو رباہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں، یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بینکنگ انٹرسٹ رباہ ہے۔

جسٹس نور محمود مسکانزئی نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد تمام فریقین کو سنا جائے گا، اگر کسی معاملے میں تشنگی ہوئی تو سوالات فریقین کے سامنے رکھ کر جواب لیں گے ،کیس کوجلد نمٹانے کی کوشش کی جائے گی،آئندہ سماعت پر بابر اعوان بطور عدالتی معاون دلائل دینگے۔

 وفاقی شرعی عدالت نے معاملہ پر  سماعت 9دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے  معاونت پر انور منصور خان کی تعریف کی ہے۔