نئے خلائی سٹیشنوں کی تعمیر: ناسا کے چار کروڑ 15 لاکھ ڈالرز کے معاہدے

217

نیویارک:امریکی خلائی ادارے ناسا نے تین کمپنیوں کو کمرشل خلائی سٹیشنوں کی تعمیر کے لیے سینکڑوں ملین ڈالرز دیے ہیں۔

عالمی میڈیارپورٹس  کے مطابق امریکی خلائی ادارے نے تین کمپنیوں کو کمرشل خلائی اسٹیشنز بنانے کے لیے چار کروڑ 15 لاکھ ڈالرز دیے ہیں، ناسا کو امید ہے کہ یہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی جگہ لے گا جو دہائی کے آخر میں ریٹائر ہونے والا ہے۔جیف بیزوس کی بلیو اوریجن، ایرو سپیس کمپنی نینوریکس اور دفاعی کنٹریکٹر نارتھ روپ گرممن نے کمرشل خلائی سٹیشنز بنانے کے لیےبالترتیب 13 ، 16 اور ساڑھے 12 کروڑ ڈالرز کے معاہدے کیے ہیں۔

اس سے قبل چوتھی کمپنی ایکسیوم سیپس کو 14 کروڑ ڈالرز دیے گئے تھے۔امریکی خلائی اسیٹیشن ہارڈویئر کی تیاری کے لیے تیزی کے ساتھ پرائیویٹ انڈسٹری میں بدل رہی ہے۔

ناسا کے سربراہ بل نیلسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’خلائی سٹیشنز کی تعمیر کے لیے امریکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کر ر ہے ہیں تاکہ لوگ وہاں جا سکیں، رہ سکیں اور کام کر سکیں۔

 اس سے ناسا کو انسانیت کے فائدے کے لیے خلا میں کام کرنے میں مدد ملے گی اور خلا میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

ناسا کے کمرشل سپیس فلائٹ کے ڈائریکٹر فل میک السٹر کا کہنا تھا کہ ’ان کمپنیوں کے ساتھ معاہدے یہ یقینی بنانے میں مدد کریں گے کہ کم سطح پر مدار میں امریکہ کی انسانی موجودگی ہے۔

بلیو اوریجن، سیررا سپیس کے اشتراک سے اوربٹل ریف تیار کرے گا جس میں دس سے زیادہ لوگوں کی گنجائش ہوگی، اس کی وضاحت خلا میں مخلوط استعمال کے کاروبار کے طور پر کیا گیا ہے۔ 

یہ کم سطح پر کشش ثقل سے متعلق تحقیق اور خلابازی کی صنعت میں تیاری پر کام کرے گا۔نینو ریکس سپیس سٹیشن وایئجر سپیس اور لوک ہیڈ مارٹن کے اشتراک سے خلا میں سٹار لیب تیار کر رہا ہے جو سپیش میں بائیولوجی لیب، فیزیکل سائنس اور مٹیریل ریسرچ لیب پر کام کرے گا۔

نارتھ روپ گرممن جس نے پہلے ہی سنگس نامی ایک خلائی جہاز تیار کیا ہے، انٹرنیشل سپیس سٹیشن کو کارگو فراہم کرتا ہے۔ اس کا سائنس،سیاحت اور صنعتی تجربات کرنے کا پلان ہے۔ 

کسی بھی کمپنی نے خلائی سٹیشنوں کو تیار کرنے کے لیے کل لاگت کا تخمینہ نہیں دیا ہے۔ناسا کے کمرشل سپیس فلائٹ کے ڈائریکٹر فل میک السٹر کے مطابق منصوبوں کے لیے ناسا کا مالی تعاون 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔