حیدرآباد، واسا ملازمین کا وزیر اعلیٰ ہائوس پر دھرنے کا اعلان

88

 

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ایچ ڈی اے ایمپلائز یونین سی بی اے کے جنرل سیکرٹری عبدالقیوم بھٹی نے واسا ملازمین کے جائز مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمین 11 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں ،ورک چارج ملازمین جن کو صرف 10 ہزار روپے پر رکھا ہوا ہے وہ بھی ادا نہیں کیے جارہے ہیں ، واسا میں بحران کے ذمے دار ایم ڈی ہیں، انہیں فوری طور پر برطرف کیا جائے سندھ حکومت کے محکموں پر واجب الادا 13 ارب روپے کی ادائیگی کرکے واساکے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ وہ حیدر آباد پریس کلب میںپریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے جنرل سیکرٹری شکیل احمد شیخ ، ایپکا سندھ کے جنرل سیکرٹری اشرف خان بوزئی ،بلدیہ حیدرآباد اسٹاف یونین (سی بی اے) کے صدر غلام محمد قریشی ، جماعت اسلامی حیدرآباد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالباسط کے علاوہ مختلف یونینوں کے رہنما بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت واسا ملازمین سے سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے،ہمیں کبھی تنخواہ دی جاتی ہے اور کبھی نہیں، اس طرح11ماہ کی تنخواہیں حکومت پر واجب الادا ہیں جبکہ پنشنرز اور ورک چارج ملازمین کو بھی مسلسل 11ماہ سے پنشن اور تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومتِ سندھ دعویٰ کرتی ہے کہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ 25ہزار روپے ادا کرنا لازمی ہے لیکن ورک چارج ملازمین کو ماہانہ صرف 10ہزار روپے دیے جاتے ہیں وہ بھی ادا نہیں کیے جا رہے ہیں جب ہم نے اس صورتحال پر بار بار احتجاج کے بعد حسین آباد اور جی او آر کالونی انڈر پاس کے قریب گندے پانی کے پمپس بند کیے ایم ڈی واسا زاہد کیمٹو نے ملازمین کے مسائل حل کرنے کے بجائے ملازمین کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرادیے اور پولیس نے چڑھائی کرکے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ واسا کے صوبائی محکموں کی جانب 13 ارب روپے جبکہ وفاقی محکموں کی جانب سے ایک ارب روپے کے بقایاجات ہیں جس کو ادا کرکے واسا کو مالی طور پر مکمل طور پر مستحکمکیا جاسکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم مطالبات کے حق میں عرصہ دراز سے جدوجہد کررہے ہیں لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھا گیا اور مقدمات بناکر ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی لیکن اگر اب مطالبات منظور نہیں ہوئے تو8دسمبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے دھرنا اوراس کے بعد بھی مسائل حل نہ ہوئے تو پھر وزیر اعلیٰ ہائوس پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی ذمے داری حکومت سندھ پر عائد ہوگی۔ اس موقع پر سندھ گورنمنٹ گرینڈ الائنس کے جنرل سیکرٹری حاجی اشرف خاص خیلی نے واسا ملازمین کی مکمل حمایت اور کراچی دھرنے میں شرکت کا اعلان کیا۔