مطالبات تسلیم نہ کیے تو بجلی بند کردیں گے ، عبدالطیف نظامانی

78

 

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) اگر حکومت وقت نے ہمارے جائز مطالبات کو تسلیم نہیں کیا تو بات یہاں نہیں رکے گی بلکہ آئندہ دنوں میں مزید احتجاجی پروگرام کیے جائیں گے اور اگر پھر بھی ہماری بات نہیں سنی گئی تو پہلے مرحلے میں کمپیوٹرکی بلنگ بند کردی جائے گی اور آخر میں بجلی بھی بند کرنا پڑی تو ہم اپنے جائز حقوق اور اپنے بچوں کے مستقبل کیلیے ملک کی بجلی بند کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے لیبر ہال حیدرآباد میں ان کی قیادت میں نکالی گئی سندھ کی سطح پر مرکزی ہزاروں واپڈا ملازمین کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی کے دیگر شرکا میں صوبائی جنرل سیکرٹری اقبال احمد خان، ملک سلطان علی، اعظم خان ، محمد حنیف خان ، ریحان اقبال قائمخانی ، رفیع الدین شاہ ، الادین قائمخانی، عبدالوحید پٹھان، رائو سعید احمد ، نور احمد نظامانی اور نور احمد سومرونے بھی خطاب کیا ۔انہوں نے کہاکہ آج صرف حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں CBA یونین کے مطالبے پر احتجاج ، جلسے جلوس اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ہے لیکن بات نہیں بنی تو احتجاج کی کال پھر جلد دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت محکمہ بجلی میں خالی جگہوں پر بھرتیاں نہیں کررہی ہے صرف زبانی جمع خرچ سے وقت گزار رہی ہے ادارے میں ملازمین کی شدید کمی ہے کام کا دبائو دن رات بڑھ رہا ہے، حکومت بھرتی کے نام پر ایسی پالیسی لانا چاہتی ہے جس میں مزدور کی تمام مراعات کا خاتمہ کر کے انہیں فکسڈ تنخواہ دی جائے اور نہ ہی ان کو کنٹریکٹ کے بعد ریگولر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو انتہائی سفاک اور ظالمانہ عمل ہے جس کے باعث محنت کش عدم تحفظ کا شکار ہوجائے گا اور اسے جب چاہا اپنی مرضی سے فارغ کردیا جائے گا، جبکہ ہمارے لیبر قوانین میں مزدور کو بنیادی حقوق کے ساتھ تحفظ روزگار بھی دیا گیا ہے اس پر ستم بالائے ستم ہمارے بچوں کو قانون کے تحت نوکری میں 20 فیصد کوٹا حاصل ہے اس کوٹے پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جارہا، ہمارے ملازمین کے بچے نوکری کے انتظار میں بوڑھے ہو رہے ہیں اور وہ اپنے کوٹے پر نوکری کیلیے صبح و شام لیبر ہال کے چکر لگارہے ہیں اور اپنی جو تیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر تھک چکے ہیں۔ ادارے میں حادثات کے باعث لائن اسٹاف ودیگر ہنر مند افراد کا کال پڑھ چکا ہے جس سے ادارے کو سخت مشکلات اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں شدید دشواری ہے ، ٹی اینڈ پی ،پی پی ای اور گاڑیاں فراہم نہیں کی جارہی ہیں ادارے میں بجلی کے سامان بالخصوص ٹرانسفارمرز، میٹرزاوروائرزکی فوری ضرورت ہے جو دستیاب نہیں ،اس کے باوجود ملازمین ادارے کی خدمات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔