سلام… آداب وفضائل

217

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کی اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات ہو تو چاہیے کہ اس کو سلام کرے، اگر اس کے بعد کوئی درخت یا کوئی دیوار یا کوئی پتھر ان دونوں کے درمیان حائل ہو جائے (اور تھوڑی دیر کے لیے ایک دوسرے سے غائب ہو جائے) اور اس کے بعد پھر سامنا ہو تو پھر سلام کرے‘‘۔ (ابوداؤد)
اس حدیث شریف سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مذہب اسلام نے ’’سلام‘‘ کی کتنی اہمیت بیان فرمائی ہے کہ دو مسلمان بھائیوں کو چند سیکنڈ اور تھوڑی سی دیر بھی الگ الگ ہو جانے کے بعد دوبارہ ملنے پر سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کا واقعہ
سلام کی اہمیت کا اندازہ اس واقعے سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو امام مالکؒ نے ’’مؤطا‘‘ میں اور امام بیہقیؒ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں سیدنا ابی بن کعبؓ کے صاحب زادے طفیل کے حوالے سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:
میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، ان کا طریقہ تھا کہ وہ ہمیں ساتھ لے کر بازار جاتے اور جس دکاندار، کباڑیے اور فقیر ومسکین کے پاس سے گزرتے اس کو بس سلام کرتے (اور کسی بھی قسم کی خرید وفروخت کیے بغیر واپس آجاتے) ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو معمول کے مطابق مجھے ساتھ لے کر بازار جانے لگے، میں نے عرض کیا کہ آپ بازار جا کر کیا کریں گے؟ نہ تو آپ کسی دکان پر کھڑے ہوتے ہیں، نہ کسی چیز کا سودا کرتے ہیں، نہ بھاؤ ہی کی بات کرتے ہیں اور بازار کی مجلسوں میں نہیں بیٹھتے ہیں (پھر آپ بازار کس لیے جائیں گے؟) یہیں بیٹھیں، باتیں ہوں اور ہم استفادہ کریں، سیدنا ابن عمرؓ نے فرمایا کہ: ’’ہم تو صرف اس غرض اور اس نیت سے بازار جاتے ہیں کہ جو سامنے آجائے اس کو سلام کریں‘‘۔ (مشکوٰۃ)
ایک حدیث شریف میں نبی کریمؐ نے ’’سلام‘‘ کرنے کو مسلمان کا حق بتلایا ہے، اس سے بھی ’’سلام‘‘ کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:
ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں اور وہ یہ کہ: جب ملاقات ہو تو سلام کرے، دوسرے جب وہ مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرے (بشرطیکہ کوئی شرعی عذر او رمانع نہ ہو)، تیسرے جب وہ نصیحت (یا مخلصانہ مشورے) کا طالب ہو تو اس سے دریغ نہ کرے، چوتھے جب اس کو چھینک آئے اور ’’الحمدللہ‘‘ کہے تو یہ اس کو ’’یرحمک اللہ‘‘ کہے، پانچویں جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے، چھٹے جب وہ انتقال کر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے‘‘۔ (مسلم)
سلام اللہ کا عطیہ
حدیث شریف سے ثابت ہے کہ ’’سلام‘‘ اللہ کا ایک عظیم عطیہ ہے، ظاہر ہے کہ احکم الحاکمین کے اس عطیے کی جتنی قدر کی جائے، کم ہے اور اس کی قدر یہی ہے کہ آپس میں ’’سلام‘‘ کو خوب رواج دیا جائے۔ بخاری شریف میں ہے کہ:
جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: جاؤ اور وہ فرشتوں کی جو جماعت بیٹھی ہے اس کو سلام کرو اور وہ فرشتے جو جواب دیں اس کو سننا، اس لیے کہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔ چنانچہ آدم علیہ السلام نے جاکر سلام کیا: ’’السلام علیکم‘‘، تو فرشتوں نے جواب میں کہا: ’’وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ‘‘ فرشتوں نے لفظ ’’رحمۃ اللہ‘‘ بڑھا کر جواب دیا۔ (بخاری)
سیدنا ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: ’’سلام‘‘ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا ہے، پس تم اس کو اپنے درمیان خوب رواج دو، پس بے شک مسلمان آدمی جب کسی قوم کے پاس سے گزرے اور ان کو سلام کرے تو سلام کرنے والے شخص کو ان کے اوپر ایک درجہ فضیلت حاصل ہوگئی، کیوں کہ اس نے ان کو اللہ کا یہ نام یاد دلایا او راگر وہ اس کو جواب نہ دیں تو اس کو وہ ذات جواب دیتی ہے جو ان سب سے بہتر اور پاکیزہ ہے‘‘۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ)
غرض یہ کہ ’’سلام‘‘ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور قیمتی عطیہ ہے، اگر ذرا غور کریں تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ جس کا کوئی حد وحساب نہیں، اب اس سے زیادہ ہماری بدنصیبی کیا ہوگی کہ اس اعلیٰ ترین کلمے کو چھوڑ کر ہم اپنے بچوں کو ’’گڈمارننگ‘‘ اور’’گڈایوننگ‘‘ سکھائیں؟ اور دوسری قوموں کی نقالی کریں؟ اس نعمت کی اس سے زیادہ ناقدری اور ناشکری اور کیا ہو سکتی ہے؟
سلام کے الفاظ اور اس کا اجر وثواب
افضل طریقہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت پورا سلام ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ کہا جائے، اگرچہ صرف ’’السلام علیکم‘‘ کہہ دینے سے بھی سلام کرنے کی سنت ادا ہو جائے گی، لیکن تین جملے بولنے میں زیادہ اجر وثواب ہے۔
عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ نبی اقدسؐ ایک مرتبہ مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: ’’السلام علیکم‘‘ آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ مجلس میں بیٹھ گیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’دس‘‘ (یعنی اس بندے کے لیے اس کے سلام کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی گئیں) پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے کہا: ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ آپؐ نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ آدمی بیٹھ گیا، تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’بیس‘‘ (یعنی اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی گئیں) پھر ایک تیسرا آدمی آیا، اس نے کہا: ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘۔ آپؐ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ مجلس میں بیٹھ گیا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’تیس‘‘۔ (یعنی اس کے لیے تیس نیکیاں ثابت ہو گئیں)۔ (ابوداؤد)
OOO