عبدالعزیز … ہر دل عزیز

351

بیٹی ڈاکٹر باصرہ کے انتقال کا دوسرا یا تیسرا دن تھا، عزیز غوری نے فون کیا، میں تمہارے گھر کے پاس ہوں، راستہ سمجھا دو، میں نے راستہ بھی سمجھایا اور بیٹے کو راہ نمائی کے لیے باہر بھی بھیج دیا۔ چند منٹ کے بعد عزیز غوری اپنے صاحبزادوں کے ہمراہ گھر پہنچ گئے۔ دیر تک سینے سے لگائے رکھا، لگتا تھا میرا سارا دکھ اپنے اندر جذب کرلینا چاہتے ہوں۔ وہ ایسا ہی تھا، ٹوٹ کر چاہنے والا، حوصلہ بڑھانے والا۔ ٹنڈو آدم کے لوگ عزیز غوری کی موجودگی سے اپنے آپ کو کیسا مطمئن کیسا سرشار محسوس کرتے ہوں گے، مجھے اندازہ ہے۔
عزیز غوری کافی عرصے سے گھٹنوں کے درد کا شکار تھے، میں نے کہا عزیز تم نے فون پر تعزیت کرلی تھی، کافی تھی، کیوں اپنے آپ کو سفر کی اس مشقت میں ڈالا، کہنے لگے تو کیا ہاتھ پائوں توڑ کر گھر بیٹھ جائوں، برسوںکی رفاقت کے تقاضوں کو ذرا سی تکلیف پر قربان کردوں۔ اس نے مجھے ہمیشہ کی طرح لاجواب کردیا، پھر ان کی منصوبہ سازی شروع ہوگئی، جلد ہی تمہیں ٹنڈو آدم بلاتے ہیں، کسی جمعہ، صبح حرا اسکول کا دورہ، کسی مسجد میں جمعہ کا خطاب، شام میں جماعت کے کسی اجتماع میں شرکت اور پھر واپسی۔ عزیز غوری نے ہمیشہ مجھ پر اپنا حق سمجھا اور میں نے بھی حتی القدور اس حق کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔
کئی سال پرانی بات ہے، میرے بہنوئی کے انتقال کو چند دن ہوئے تھے عزیز کا فون آیا۔ بھئی ہم نے، فلاں مسجد میں نیا منبر نصب کروایا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ اس منبر پر گفتگو کا آغاز آپ کریں، بہنوئی کے انتقال کی وجہ سے طبیعت بوجھل تھی لیکن عزیز نے گریز کی ہر کوشش ناکام بنادی اور طے شدہ وقت پر پہنچنے کا وعدہ لے کر ہی دم لیا۔
ابھی عزیز غوری موجود ہی تھے کہ محکمہ زراعت کے دو افسران تشریف لے آئے۔ ان میں سے ایک کے نام کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لگا ہوا تھا۔ عزیز بھائی نے حسب عادت دعوت کا حق ادا کرنا شروع کردیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ صاحبان اس وقت ایسی کسی گفتگو کی توقع نہیں کررہے تھے لیکن وہ عزیز غوری ہی کیا جو ’’موقع‘‘ ہاتھ سے جانے دیں۔ چند دن بعد ان بھٹو صاحب سے فون پر رابطہ ہوا تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ ہم جماعت اسلامی کے لوگوں کی کمٹمنٹ سے واقف تو پہلے بھی تھے لیکن تمہارے دوست نے گھائل کردیا ہے۔ میں نے کہا تو پھر تبدیلی کی طرف مائل بھی ہوجائیں کہنے لگے، مشتاق تم جانتے ہو، ہماری مجبوریاں کیا ہے۔
ابھی اس تعزیت کو چند دن ہی ہوئے تھے، ابھی میرے دورہ ٹنڈوآدم کا ابتدائی خاکہ بھی زیر گفتگو نہیں آیا تھا کہ میرے بھائی کی طبیعت کی خرابی کی خبر ملی، ٹیلی فونک رابطے سے معلوم ہوا کہ طبیعت زیادہ خراب ہے، کراچی منتقل کردیا گیا ہے، اللہ خیر کرے، بے ساختہ دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی، کئی دن تک ہر روز ان کے بیٹوں سے رابطہ رہا۔ کبھی لہجے میں اطمینان ہوتا کبھی تشویش، دل سنبھالے نہیں سنبھل رہا تھا اور پھر وہ خبر آگئی جسے کبھی نہ کبھی تو آنا ہی تھا، ایک طویل رفاقت کا اختتام ہوا، سال ہونے کو ہے، کئی بار سوچا، ٹنڈو آدم کا چکر لگائوں، لیکن
جس دھوپ سے دل میں ٹھنڈک تھی وہدھوپ اسی کے ساتھ گئی
ان جلتی بلتی گلیوں میں، میں باہر جائوں کس کے لیے
عزیز غوری سے شناسائی، نصف صدی کا قصہ ہے، دوچار برس کی بات نہیں۔ ستر کی دہائی کے اوائل میں، میں حیدرآباد جمعیت سے منسلک ہوا، اسی زمانے میں ٹنڈوآدم میں عزیز غوری اور رفقا کنری میں سلیم مغل، جھڈو میں شبیر قائم خانی اودھم مچائے ہوئے تھے۔ 1974ء میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا تو عزیز غوری اس کے ہر اول دستے میں شامل تھے۔ حیدرآباد سے راقم الحروف، زاہد عسکری، عابد بخاری، کفایت اللہ منصوری، ٹنڈوآدم سے عزیز غوری، سانگھڑ سے بچل لغاری، ٹولیوں کی صورت میں شہر شہر قریہ قریہ تقریریں کرنے اور بیداری کی لہر اٹھاتے، مجھے یاد ہے ٹنڈو آدم میں ایک مسجد میں مجھے یہ کہہ کر تقریر سے روک دیا گیا کہ پتلون پہننے والے ڈاڑھی منڈے نوجوان کو مسجد میں تقریر کا حق نہیں ہے، لیکن وہیں جب عزیز غوری نے تقریر کی تو کسی میں انہیں روکنے کی ہمت نہیں تھی۔
عزیز غوری کا تقریر کا اپنا ہی انداز تھا، بلند آہنگ اور پر جوش طول بیانی ان کا خاصّہ تھی، دس پندرہ منٹ میں تو ان کا انجن گرم ہوتا تھا، کسی پروگرام میں ان کے بعد تقریر کرنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے تحریک کے مقصد کو ٹھیک طرح سے سمجھ رکھا تھا اور اسے پوری شرح وبسط سے بیان کرنے کا ملکہ رکھتے تھے، وہ فکری تقاضوں سے ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ سیاسست کے عملی تقاضوں سے بھی واقف تھے، یہ اس کا نتیجہ تھا کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک نشست کی حامل جماعت اسلامی نے ٹنڈوآدم کی چیئرمین کی نشست پر اکثریت کی حمایت حاصل کرلی تھی۔
1987ء کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ایم کیو ایم کا جن قابو سے باہر ہوچکا تھا۔ 1988ء میں جماعت اسلامی حیدرآباد کے دفتر پر حملہ ہوا، تین دن بعد حیدرآباد میں جماعت نے ایک ریلی کا اہتمام کیا، اس ریلی میں عبدالعزیز غوری کی تقریر ان کی جرأت کی آئینہ دار تھی، دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ وطوفان۔
2007ء میں، میں نے ’’جسارت‘‘ میں کالم لکھنا شروع کیا تو دیگر دوستوں کی طرح عزیز غوری کی طرف سے بھی سراہے جانے کا عمل شروع ہوا، ہر ایسے کالم پر جس میں نظریاتی اور فکری مواد ہوتا ان کا فون ضرور آتا، ان کا اصرار ہوتا کہ میں اپنے کالموں میں جماعت کے فکری پہلو کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کروں، کہ ان کے خیال کے مطابق یہی کرنے کاکام ہے۔
میرا احساس ہے کہ عبدالعزیز غوری کو جماعت اسلامی سندھ میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے، لیکن اس سے عزیز غوری کو کیا فرق پڑا۔ اس درویش خدا مست نے اپنے دائرہ کار میں اپنا لوہا بھی منوایا اور جماعت اسلامی کا بھی۔