امریکی تاریخ میں انسانی طبی تجربات کی ہولناکیاں

410

1942 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی فوج کو ایک بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ ہیپاٹائٹس کی وبا سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔

متعدی جگر کی بیماری کا مطالعہ کرنے کے لئے جانور پر تجربات کے کوئی ذرائع یا کوئی سیل کلچر ماڈل نہیں تھا۔ وباء کے ماخذ کو تلاش کرنے اور اس پر قابو پانے کے طریقہ کار سیکھنے کے لیے بے چین، فوج نے بایومیڈیکل محققین جن میں فلاڈیلفیا میں پنسلوانیا یونیورسٹی اور کنیکٹی کٹ کے اور ییل یونیورسٹی کے کچھ ماہرین شامل تھے، کے ساتھ مل کر انسانی تجربات شروع کیئے جو کئی دہائیوں تک جاری رہے۔

30 سالہ پروگرام کے دوران محققین نے 1,000 سے زائد لوگوں میں ہیپاٹائٹس کا وائرس داخل کیا جن میں 150 سے زیادہ بچے بھی شامل تھے۔ تاریخ ساز ماہر عمرانیات سڈنی ہالپرن کا کہنا ہے کہ اندراج کیے گئے افراد میں جیل کے قیدی، معذور بچے، شدید ذہنی امراض میں مبتلا افراد اور دیگر جرائم میں سزا کاٹ رہے افراد شامل تھے۔ امریکی جیلوں اور پاگل خانوں میں تعصب کی وجہ سے ایک بڑی تعداد سیاہ فاموں کی تھی۔ دوسری جانب طویل مدتی نتائج کا کبھی بھی مکمل طور پر حساب نہیں کیا گیا کہ آیا ان افراد پر کیے گئے تجربات اور نتائج کا کیا بنا؟

بیسویں صدی اور اس سے قبل کی تاریخ انسانی طبی تجربات کے ہولناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ایسا ہی ایک انسانیت سوز واقعہ اور تعصب کی بدترین مثال 1930 میں پیس آئی جب امریکا میں سفیلس وائرس کی وبا پھوٹی. اس بیماری میں مبتلا سفید فاموں کا تو علاج کیا گیا لیکن سیاہ فاموں کا علاج کئی دہائیوں تک روکے رکھا۔