اسلام آباد:یونیورسٹی ہاسٹل کی طالبات بدقماشوں کے نشانے پر،اجتماعی زیادتی کا انکشاف

183

ممبر قومی اسمبلی چوہدری حامد نے  قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ ہاسٹل میں مقیم طالبات ہاسٹل کا وقت ختم ہونے کے بعد باہر نکلتی ہیں،بین الاقوامی یونیورسٹی کی طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی، یونیورسٹی اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، میں یہ معاملہ اگلے اجلاس میں بھی لے کر آؤں گا۔

مقامی روزنامے سے گفتگو میں حامد حمید نے تفصیلات بتائیں کہ اجتماعی زیادتی کے بعد ایف ٹین مرکز کے ایک نجی اسپتال میں بچیوں کو داخل کروایا گیا جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے وارڈن کو تفتیش کے لیے لے کر گئے تاہم اس کے بعد اسپتال انتظامیہ نے ریکارڈ شاید ضائع کر دیا ہے، آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے تفصیلات طلب کریں گے۔

اس حوالے سے ترجمان اسلامی یونیورسٹی ناصر فرید نے بتایا کہ یہ خبرسراسر غلط اور بے بنیاد ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یونیورسٹی نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں ہراسانی کے حوالے سے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے، مذکورہ بے بنیاد واقعے کے بارے میں نہ تو اس کمیٹی کو کوئی اطلاع یا شکایت کی گئی اور نہ ہی سکیورٹی آفس کو اطلاع دی گئی ہے، ایسی کسی بھی قسم کی شکایت یا واقعے پر سخت ایکشن لیا جاتا ہے اور جامعہ کی انتظامیہ کیمپس میں طلباو طالبات کے جان و مال کی حفاظت کے ضمن میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی۔

ترجمان جامعہ نے امید ظاہر کی کہ جامعہ میں شروع ہونے والی داخلہ مہم کو متاثر ہونے سے بچانے میں میڈیا بھرپور کردار ادا کرے گا اور اس موقع پر ایسی غلط فہمی پر مبنی خبروں سے اجتناب کیا جائے گا۔