ہفتے میں دو روزے موٹاپے کے علاج کے لیے مفید ،جدید تحقیق سامنے آگئی

177

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو صحت کی بہتری کے لیے ہفتے میں دو نفلی روزے رکھنے کی جو تدبیر بتائی ہے ،ایک بار پھر جدید تحقیق نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے.

کوین میری یونیورسٹی، برطانیہ کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کامیاب ڈائٹنگ کےلیے روزانہ کم کھانے سے بہتر ہے کہ ہفتے میں صرف دو دن فاقہ کیا جائے جبکہ باقی پانچ دن معمول کے مطابق، صحت بخش غذائیں استعمال کی جائیں۔

ڈائٹنگ کے اس طریقے کو فائیو-ٹو ڈائٹ بھی کہا جاتا ہے جو کچھ سال پہلے ہی سامنے آیا ہے اور بہت مقبول ہورہا ہے۔

اس طریقے کے تحت ہفتے کے پانچ دنوں میں معمول کی غذاؤں سے مطلوبہ کیلوریز لی جاتی ہیں جو مردوں کےلیے 2ہزار سے 3ہزار کیلوریز روزانہ جبکہ خواتین کےلیے 16سو سے 24سو کیلوریز روزانہ کو مناسب سمجھا جاتا ہے۔

باقی کے دو دنوں میں غذا بہت کم کرتے ہوئے صرف 500 کیلوریز روزانہ تک محدود کردی جاتی ہے۔ اسے میڈیکل سائنس کی زبان میں فاقہ (فاسٹنگ) کہا جارہا ہے۔

حالیہ تحقیق کے دوران کوین میری یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیٹی میئرز اسمتھ اور ان کے ساتھیوں نے 300 ایسے رضاکار بھرتی کیے جو موٹاپے میں مبتلا تھے۔ انہیں تین گروپس میں تقسیم کیا گیا ۔تینوں گروپس میں شامل افراد سے چھ ہفتوں تک تین الگ الگ ڈائٹنگ پلانز پر عمل کروایا گیا۔

اختتام پر معلوم ہوا کہ اگرچہ ’’فائیو ٹو ڈائٹنگ‘‘ اور ’’روزانہ کم کھانے والی ڈائٹنگ‘‘ کے نتائج میں کوئی خاص فرق نہیں تھا لیکن رضاکاروں کی بڑی تعداد نے ’’فائیو ٹو ڈائٹنگ‘‘ پلان کو زیادہ آسان محسوس کیا اور مطالعے کے اختتام تک اس معمول کو جاری رکھا۔یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے ملنے جلنے والوں کو بھی موٹاپے کے علاج میں ’’فائیو ٹو ڈائٹنگ‘‘ تجویز کرنا شروع کردی۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس ون‘‘ کے تازہ شمارے میں اس تحقیق کی مکمل تفصیلات شائع ہوئی ہیں . تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ فائیو ٹو ڈائٹنگ اگرچہ زیادہ تر لوگوں کےلیے مفید ہے لیکن 18 سال سے کم عمر افراد اور حاملہ خواتین کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتی ہے۔