لڑکیوں کے مقابلے میں یورپی لڑکوں کو کھیلوں میں استحصال کا سامنا

129

کراچی(سید وزیر علی قادری)یورپ کے6 ممالک میں کرائی گئی ایک مطالعاتی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کھیلوں کے شعبے میں لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جسمانی اور ذہنی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے نے یورپی یونین کے تعاون سے 6 یورپی ممالک میں کھیلوں کے شعبے میں لڑکوں اور لڑکیوں کو مختلف انداز کے استحصالی اور متشدد رویوں سے متعلق جاری رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہنی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکوں کو ا سکول سے باہر سب سے زیادہ جس رویے کا سامنا ہوتا ہے وہ ذہنی تشدد ہے جہاں تعریف نہ ہونے سے لے کر بے عزتی اور تضحیک جیسے معاملات پیش آتے ہیں۔ شماریاتی مطالعے کے مطابق تقریبا دو تہائی بچے کھیلوں کے شعبے میں مختلف انداز کے نامناسب رویوں کا سامنا کرتے ہیں جب کہ 44 فیصد کو جسمانی تشدد تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایج یونیورسٹی انگلینڈ اور یونیورسٹی آف ووپرٹال جرمنی کی اس مشترکہ تحقیق میں آسٹریا، بیلجیم، جرمنی، رومانیہ، اسپین اور برطانیہ میں 18سے 30 سال کی عمروں کے 10 ہزار سے زائد افراد سے معلومات جمع کی گئیں،یہ تمام افراد وہ تھے جو 18سال یا اس سے کم کی عمر میں کھیلوں کے شعبے سے جڑے رہے تھے،شکایت کرنے والوں میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی تعداد زیادہ دیکھی گئی ۔رپورٹ کے رہنماپروفیسر مائیک ہارٹِل کا کہنا ہے کہ نتائج بتاتے ہیں کہ یورپ میں کھیلوں کے شعبے کے نگراں بچوں کے تحفظ کے لیے کتنے کم اقدامات کر رہے ہیں۔