سی این جی ایسوسی ایشن کا گیس بندش کیخلاف عدالت جانیکا اعلان

111

کراچی (کامرس رپورٹر) سی این جی ایسوسی ایشنز نے سندھ اور بلوچستان میں ڈھائی ماہ کے لییسی این جی اسٹیشنز کو گیس کی بندش کا فیصلہ مسترد کردیا اور عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ طویل گیس بندش کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی بھی دھمکی دی ہے۔ گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن اور سندھ سی این جی ایسوسی ایشن کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی ۔ اس موقع پر آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین سمیر گلزار نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے سی این جی اسٹیشنز کو ڈھائی ماہ کے لیے گیس بند کر دی گئی ہے جبکہ سندھ
کے90 فیصد سی این جی اسٹیشنز آر ایل این جی پر ہیں‘ اگر گھریلو صارفین قدرتی گیس پر ہیں تو ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں‘ سی این جی اسٹیشنز کی ضرورت محض 12 سے 15 ایم ایم سی ایف ڈی ہے‘ گزشتہ 19 برس میں کبھی بھی اس قدر طویل عرصے کے لیے سی این جی بند نہیں کی گئی‘ حکومت کو راتوں رات ہماری گیس بندش کا اختیار نہیں ہے‘ ہمیں ایک سال قبل آر این جی پر منتقل کیا جا چکا ہے مگر ہمیں گیس نہیں دی جا رہی ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سی این جی سیکٹر کو تباہ کیا جا رہا ہے‘ہم مسلسل ایم ڈی ایس ایس جی سی سے ملاقات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ ہم اسٹیک ہولڈرز ہیں اور ہماری بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ سندھ سی این جی ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر پرشوتم کا کہنا تھا کہ 15 روز قبل سوئی سدرن حکام نے کہا کہ آر ایل این جی ہمارے پاس نہیں ہے‘ اب ہم ہائی کورٹ میں سول پٹیشن فائل کر رہے ہیں‘ کراچی کے علاوہ صوبے کے دیگر شہروں میں ہم سی این جی اسٹیشنز چلائیں گے‘ ایم ڈی سوئی سدرن کو حالات کا شاید پتا ہی نہیں ہے‘ حماد اظہر سے پیرکو ملاقات ہوگی اور اگر سی این جی اسٹیشز کی گیس بحال نہ کی گئی تو احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے۔ اس موقع پر شعیب خان جی، سمیر نجمل حسین، روشن لال و دیگر بھی موجود تھے۔