افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں

139

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، یہ جھڑپیںمغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کنگ میں ہوئی ہیں۔مقامی افغان صحافیوں نے میڈیاکو بتایا کہ طالبان اور
ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں افغانستان کے مغربی صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کنگ (Kung) میں بدھ کی شام پانچ بجے شروع ہوئیں۔لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا، علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں طالبان فورسسز کو توپوں سے ایرانی علاقے پر گولہ بارے کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے پانچ سرحدی چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔طلوع نیوز کے مطابق افغانستان امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایرانی سرحدی گارڈز اور طالبان فورسز کے درمیان جھڑپیں اب ختم ہوچکی ہیں۔ایجنسی کے مطابق افغان صوبے نمروز کے سرحدی علاقے میں طالبان فورسز کے جھڑپیں سرحدی غلط فہمی کی وجہ سے ہوئیں۔اس حوالے سے ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان سرحد پر معاملہ حل ہوگیا ہے، افغان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان رابطے کے بعد فائرنگ روک دی گئی ہے۔تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ طالبان فورسز کی جانب سے ایرانی چیک پوسٹس پر قبضے کی خبر بھی غلط ہے۔